وفاقی وزیر اور صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان کا کہنا ہے کہ آج کا دن دو بڑے قومی سانحات کا تلخ حوالہ بن چکا۔ سقوط ڈھاکہ اور آرمی پبلک اسکول پر حملہ ناقابل فراموش ہیں۔ اے پی ایس کے سانحہ دلخراش پر ہرآنکھ نمناک اور دل رنجیدہ ہے۔
وفاقی وزیر اور صدر آئی پی پی عبدالعلیم خان نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا سقوط ڈھاکہ اور آرمی پبلک سکول پر حملے نے قوم کو گہرے دکھ اور الم سے دوچار کیا۔ قربانیوں کی لازوال داستانیں دلوں پر نقش ہیں۔ سولہ دسمبر پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، پہلے 1971 میں سقوط ڈھاکہ کی صورت پاکستان کا ایک بازو کٹ گیا پھر 2014 میں آرمی پبلک سکول پر دہشتگردوں کے حملے میں 122 معصوم طلبہ سمیت 147 افراد شہید ہوئے۔
عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ اے پی ایس کے سانحہ دلخراش پر ہرآنکھ پرنم اور دل رنجیدہ ہے۔ اس سانحے نے کئی گلشن اجاڑ دئیے۔ کئی ماؤں کی گودیں خالی ہوگئیں۔ آج بھی اس سانحے کے زخم تازہ ہیں جس کا مرہم صبر کے سوا کچھ نہیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ آرمی پبلک اسکول کے بچوں نے درسگاہ میں اپنی جانیں قربان کیں جبکہ آرمی کےجوان سرحدوں پروطن کے لیے جان نچھاورکررہے۔ اس سانحےکےرد عمل میں دشمن کےبچوں کوپڑھانےکاموقف دشمنوں پراخلاقی فتح کا باعث ہے۔ پھولوں جیسی ننھی شہادتوں کےمتبادل بلند ظرف مؤقف اختیارکرنا بڑےحوصلے کی بات ہے۔
صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نے کہا کہ والدین نے جس دلیری اور وسعت قلبی سے اس سانحے کو برداشت کیا وہ جذبہ قابل ستائش ہے۔ شہدائے اے پی ایس کے بلند درجات کے لیے دعاگو رہنا ہمارے لیے قومی فریضہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اللہ کرے کہ چشم فلک ارض وطن پرایسا اندوہناک سانحہ دوربارہ نہ دیکھے۔





















