وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی عمران خان اور فیض حمید تمام معاملات میں حصہ دار تھے۔ بانی پی ٹی آئی کے ملٹری ٹرائل کا فیصلہ قانون کرے گا۔
پارلیمنٹ ہاوس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو اقتدار میں لانے والوں میں سرفہرست فیض حمید تھے ۔ دونوں کی پارٹنر شپ 2018 کے الیکشن سے پہلے سے تھی ۔جو نو مئی کو بھی برقرار تھی۔ شواہد سامنے آئیں گے تو معاملات دائیں بائیں بھی جاسکتے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا 2018 الیکشن میں پی ٹی آئی کو ہرطرح سے سہولت دی گئی، چیئرمین سینیٹ اور دیگر الیکشن میں بھی فیض حمید کا کردار رہا، وقت ثابت کرے گا کس طرح سیاسی مخالفین پرظلم اور لوٹ مار کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی حکومت میں بہت سے سویلینز کا ملٹری ٹرائل ہوا، پی ٹی آئی رہنما سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر بات کیوں نہیں کرتے؟
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دور میں کس طرح مخالفین کو قید کرکے جعلی مقدمات بنائی گئے، ان کے خاندانوں کے خلاف مقدمات بنائے گئےکس طرح لوٹ مار کی گئی۔ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ نے بڑے بزنس ٹائیکون کےساتھ ملکرکرپشن کی۔
قبل ازیں پارلیمنٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے اندر اختلافات ہیں،ہر شخص مختلف بیانات دیتا ہے، بشریٰ بی بی کہتی ہیں ان کے لوگ انہیں چھوڑ کربھاگ گئے، پی ٹی آئی والے ڈی چوک سےب ھاگےتوبشریٰ بی بی ان کے ساتھ تھیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور کے گارڈز نے اپنے کارکنوں پرفائرنگ کی، کے پی سے سرکاری ملازمین اور سفیدلباس میں پولیس اہلکار لائے جاتے ہیں، اپنے صوبے میں امن قائم کرنا وزیراعلیٰ کے پی کی ذمہ داری ہے، اپنا صوبہ چھوڑکروزیراعلیٰ کے پی نے اسلام آباد پرچڑھائی کی۔ اسلام آبادپران کی تیسری بارچڑھائی ناکام ہوئی۔
وزیردفاع نے کہا کہ پی ٹی آئی نے صوبائیت کا کارڈ کھیلنا شروع کردیا، 10 سال پہلےبھی بانی پی ٹی آئی نےسول نافرمانی کی کال دی تھی، کسی نے بانی پی ٹی آئی کی سول نافرمانی کی کال تسلیم نہیں کی۔ آج بھی کوئی پاکستانی یوٹیلیٹی بلز دینے سے انکار نہیں کرے گا۔ بیرون ملک پاکستانی اپنے گھر والوں کو پیسے بھیجنا بند نہیں کریں گے۔





















