وفاقی حکومت نے ملک دشمن پروپیگنڈے میں ملوث افراد کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق ریاست اور سیکیورٹی اداروں کیخلاف پروپیگنڈا کرنے والوں افراد کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا گیا۔ سیکیورٹی اداروں اور ایف آئی اے سائبر کرائم کی مشترکہ ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔
وفاق اورصوبائی سطح پر ٹیموں کو گرفتاری و تفتیش کے اختیارات حاصل ہوں گے، مشترکہ ٹیموں کو پی ٹی اے اور متعلقہ اداروں کی مکمل معاونت بھی حاصل ہوگی۔ مشترکہ ٹیمیں ملک کے کسی بھی علاقے میں چھاپے اورگرفتاری کرسکیں گی۔
سائبر کرائم سے متعلق ٹیمیں وفاقی حکومت کے ماتحت کام کریں گی، ٹیمیں سوشل میڈیا اپیس پر اکاؤنٹس کی تفصیلات معلوم کرنے کی ذمہ دار ہوں گی، ٹیموں میں سائبر سیکیورٹی ماہرین بھی شامل ہوں گے، تمام وسائل دیئے جائیں گے۔
قبل ازیں ریاست کے خلاف مذموم پروپیگنڈا کرنے والوں کی شناخت کیلئے جوائنٹ ٹاسک فورس قائم کردی گئی۔ 10 رکنی ٹاسک فورس کی سربراہی چیئرمین مین پی ٹی اے کو سونپی دی گئی۔ وزیراعظم کے احکامات کے تحت جوائنٹ ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔
ٹاسک فورس میں پی ٹی اے کےعلاوہ دیگر اداروں کے افسران بھی شامل ہیں۔ جوائنٹ ٹاسک فورس حالیہ احتجاج کے پیش نظر جھوٹا پروپیگینڈا کرنے والے عناصر کی نشاندہی کرے گی۔ ٹاسک فورس کو سفارشات مرتب کرکے حکومت کو پیش کرنے کیلئے 10 روز کی مہلت دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ جوائنٹ ٹاسک فورس میں جوائنٹ سیکریٹری داخلہ، جوائنٹ سیکریٹری وزارت اطلاعات و نشریات، ڈائریکٹر سائبر ونگ ایف آئی اے، ڈائریکٹر آئی ٹی وزارت جوائنٹ ٹاسک فورس میں شامل ہوں گے۔
جوائنٹ ٹاسک فورس کے لیے ٹی او آرز بھی طے کرلیے گئے، ٹی او آر کے مطابق ٹاسک فورس حالیہ احتجاج کے پیش نظر جھوٹا پروپیگینڈا کرنے والے عناصر کی نشاندہی کرے گی۔
ٹاسک فورس 10 دنوں میں اپنی سفارشات مرتب کرکے حکومت کو پیش کرے گی، ٹاسک فورس بدنیتی پر مبنی مہم چلانے والے ملک کے اندر اور باہر عناصر کی نشاندہی کرے گی۔
اس کے علاوہ بدنیتی پرمبنی مہم چلانے والوں کےخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، ٹاسک فورس پالیسی میں خامیاں پر کرنے کے لیے اقدامات تجویز کرے گی، ٹاسک فورس جعلی اور من گھڑت خبریں پھیلانے والے عناصر کی شناخت کرے گی۔