بھارتی حکومت دو سال قبل پاکستان میں گرنے والے براہموس میزائل کی وضاحت دینے میں ناکام رہی تاہم اب بھارتی فضائیہ نے اپنی نااہلی اور غیرپیشہ وارانہ طرز عمل کا خود اعتراف بھی کرلیا۔ دہلی ہائیکورٹ میں جمع جواب میں بتایا گیا ہے کہ میزائل کے کنیکٹرز جنکشن باکس سے جڑے رہنے کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔
بھارتی اخبار دی اکنامک ٹائمز کے مطابق بھارتی فضائیہ نے دہلی ہائیکورٹ میں اپنا جواب جمع کرا دیا ہے اور حادثے کا سارا ملبہ چھوٹے عملے پر ڈال دیا۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ کانوائے کی روانگی سے قبل جنگی عملہ میزائل کے کنیکٹرز کو الگ کرنے اور موبائل لانچر کمانڈر کو جنگی میزائل لانچ کرنے کے غیر محفوظ عمل سے روکنے میں ناکام رہا۔
بھارتی فضائیہ نے یہ جواب اپنے ہی ونگ کمانڈر ابھینو شرما کی دائر درخواست پر جمع کرایا ہے جس میں ونگ کمانڈر نے اپنے ایئرکموڈور اور اسکواڈرن لیڈر پر حفاظتی احتیاطی تدابیر نظرانداز کرنے کا الزام لگا رکھا ہے۔
واضح رہے کہ مارچ 2022 میں بھارتی فضائیہ کا براہموس میزائل بھارت سے فائر ہو کر پاکستان میں آگرا تھا۔ بھارتی فضائیہ نے ونگ کمانڈر ابھینو شرما سمیت تین پائلٹ افسران کو حادثے کا ذمہ دار قرار دے کر نوکری سے نکال دیا تھا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فضائیہ کے جواب سے تصدیق ہوتی ہے کہ بھارت کا میزائلوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم نااہل ہاتھوں میں ہے۔ بھارتی فضائیہ میں خود احتسابی کا عمل نہ ہونے کے برابر ہے، اسی لئے بڑے افسروں کو بچانے کیلئے چھوٹے افسران کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کی گئی۔





















