پنجاب سکلز ڈویلپمنٹ فنڈ (پی ایس ڈی ایف) اور نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (این اے وی ٹی ٹی سی) نے ایک مفاہمتی معاہدہ پر دستخط کیے ہیں جسکے مطابق دونوں ادارے ملکر ملک بھر کے نوجوانوں کو ٹیکنیکل اور ووکشنل تربیت فراہم کریں گے۔
اس معاہدہ کے بعد پی ایس ڈی ایف کا دائرہ کارپنجاب سے نکل کر ملک بھر پھیل جائے گا اور پوری ملک کے نوجوان اس ادارے کی جانب سے فراہم کی جانے والے کورسز سے مستفید ہو سکیں گے۔
معاہدہ کی رو سے مقامی طور پر تربیت یافتہ نوجوانوں کی ڈیجیٹل ٹریننگ اور سرٹیفیکیشن کے حوالے سے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی تاکہ پاکستانی لبیر فورس بین الاقوامی مارکیٹ میں آسانی سے اپنی جگہ بنا سکے، دونوں تنظیموں نے مقامی اور بین الاقوامی طلب پیدا کرنے کے لیے مختلف سیکٹرکی ترجییح ٹریننگ اور بین الاقوامی ضروریات کے عین مطابق ہنرمندی کی تربیت کی فراہمی پر بھی اتفاق کیا۔
دونوں ادارے تعمیرات، مہمان نوازی اور آئی ٹی کے شعبوں میں تربیتی پروگراموں میں ملک کے نوجوانوں کو ہنر کی تربیت فراہم کرنے میں تعاون کریں گے، اس تربیت کے ذریعے کوشش کی جائے گی کی کم از کم 30 فیصد فارغ التحصیل افراد کو اس کے بعد نوکری مل جائے۔
ٹریننگ ملک بھر کے 16 اضلاع میں دی جائے گی جن میں لاہور، فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی، اسلام آباد، رحیم یار خان، کراچی، حیدر آباد، سکھر، پشاور، نوشہرہ، ایبٹ آباد، کوئٹہ، گلگت، مظفرآباد شامل ہیں۔
مزید برآں، دونوں تنظیموں نے نصاب کی اپ گریڈیشن اور TVET کے شعبے کی ترقی میں تعاون کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
پی ایس ڈی ایف کے چیف آپرٹنگ آفیسر علی اکبر بوسن نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مقامی اور بین الاقوامی نصاب کے درمیان فرق کو ختم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک بین الاقوامی طلب کے مطابق ہنر مند افرادی قوت پیدا کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسا کرنے سے پاکستانی افرادی قوت بین الاقوامی مارکیٹ میں بہتر طریقے سے جگہ بنا سکتی ہے۔
این اے وی ٹی ٹی سی کی چیئرپرسن گلمینہ بلال احمد نے یوتھ ایمرجنسی نافذ کرنے پر زور دیا۔
انہوں کے کہا کے نوجوانوں کو ناکام ہونے سے روکنے اور انہیں معاشرے کے لیے مفید اور اہم بنانے کے لیے ہدفی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بلوچستان پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ وہاں زیادہ سے زیادہ تربیت حاصل کی جا سکے۔
پی ایس ڈی ایف کے بورڈ ممبر ڈاکٹر اعجاز نبی نے کہا کے اس معاہدہ کے بعد، پی ایس ڈی ایف اب اسکل ڈویلپمنٹ ادارہ بنانے کے اپنے مقصد کی طرف بڑھ رہا ہے، انہوں نے حکومتی فنڈنگ کے علاوہ پی ایس ڈی ایف کو پورے ملک اور صنعتوں کے ساتھ ملکر مزید تربتیی پروگرام شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔





















