Live Updates: گلگت بلتستان انتخابات، کون آگے کون پیچھے؟ نتائج آنے کا سلسلہ شروع
پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بلاتعطل جاری رہا
جی بی اے 4 نگر1، پیپلز پارٹی کے علی اختر کامیاب
گلگت بلتستان کے حلقہ جی بی اے 4 نگر 1 میں پیپلز پارٹی کے علی اختر نے کامیابی سمیٹ لی ہے ۔
جی بی اے 4 نگر 1 کے تمام 53 پولنگ سٹشنز کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ موصول ہو گیاہے جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے علی اختر 7670 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ہیں جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کے ایوب وزیری 656 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی اے 24 کا غیر حتمی نتیجہ موصول ، آزاد امیدوار اسد شفیق نے میدان مار لیا
گلگت بلتستان کے حلقہ جی بی اے 24 گانچھے 3 کے تمام پولنگ سٹیشنز کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ سامنے آ گیاہے جس کے مطابق آزاد امیدوار اسد شفیق نے میدان مار لیا ہے۔
موصول ہونے والے تمام 46 پولنگ سٹیشنز کے نتائج کے مطابق آزاد امیدوار اسد شفیق 8092 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل نے 5072 ووٹ حاصل کیئے اور دوسرے نمبر پر رہے تاہم امیدوار کی حتمی جیت کا اعلان الیکشن کمیشن کی جانب سے کیا جائے گا۔
فارم 45 کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے، الیکشن کمیشن گلگت بلتستان
گلگت بلتستان الیکشن کمیشن نے ہدایت جاری کی ہے کہ ہر پولنگ اسٹیشن پر موجود امیدواروں کے پولنگ ایجنٹس کو فارم 45 کی مصدقہ نقل لازماً فراہم کی جائے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق فارم 45 کے اجرا سے متعلق غیر مصدقہ خبروں کی نشریات سے گریز کیا جائے، جبکہ سیاستدانوں کے بے بنیاد دعوؤں کو بھی تصدیق کے بغیر نشر نہ کیا جائے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ جن پولنگ اسٹیشنز پر ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل ہو چکا ہے وہاں فارم 45 جاری کیے جا رہے ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فارم 45 کے اجرا اور انتخابی عمل سے متعلق تمام اقدامات الیکشن ایکٹ 2017 اور الیکشن رولز 2017 کی متعلقہ دفعات کے عین مطابق یقینی بنائے جائیں۔
الیکشن کمیشن نے تمام ریٹرننگ افسران سے ہدایت کی ہے کہ وہ جاری کردہ احکامات پر ان کی حقیقی روح کے مطابق مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔
گلگت بلتستان انتخابات، 12 حلقوں کا مکمل نتیجہ موصول،پیپلز پارٹی کا پلڑا بھاری، 6 حلقوں میں میدان مار لیا
گلگت بلتستان انتخابات کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہےاوراب تک 12 حلقوں کے غیرسرکاری وغیرحتمی مکمل نتائج موصول ہوچکےہیں جن میں سے 6 میں پیپلز پارٹی،ایک نشست پر ایم ڈبلیو ایم، 2 میں ن لیگ جبکہ 5 آزاد امیدوارکامیاب قرار پائے ہیں۔
گلگت بلتستان اسمبلی کےعام انتخابات کے غیر حتمی اور غیرسرکاری نتائج کےمطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے سبقت حاصل کرتے ہوئے 6 نشستوں پرکامیابی حاصل کرلی،جبکہ پانچ آزاد امیدوار بھی میدان مارنے میں کامیاب رہے ہیں۔
ابتدائی نتائج کےمطابق جی بی اے 4 نگر سےپیپلزپارٹی کےمحمد علی اختر،جی بی اے 5 نگرسے ذوالفقار مراد، جی بی اے 7 اسکردو سے توقیرمہدی شاہ،جی بی اے 11 کھرمنگ سے اقبال حسن اور جی بی اے 19 سے سید جلال شاہ کامیاب قرار پائے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) نے دو نشستوں پرکامیابی حاصل کی ہے،جی بی اے 22 گانچھے ون سے مسلم لیگ (ن) کے ابراہیم ثنائی فاتح قرار پائے ہیں۔
آزاد امیدواروں میں جی بی اے 23 سےانور علی،جی بی اے 24 گانچھے سے اسد شفیق اور جی بی اے 6 سےنیک نام کریم کامیاب رہے،جبکہ دیگرآزاد امیدواربھی برتری حاصل کیے ہوئے ہیں، مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) نے بھی ایک نشست اپنے نام کر لی ہے۔
جی بی اے 1 گلگت
جی بی اےون کے 80 میں سے 35 پولنگ اسٹیشنز کا غیرسرکاری نتیجہ سامنے آ گیاہے جس کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے امجد ایڈووکیٹ 6950 ووٹ کے ساتھ آگے جبکہ مسلم لیگ ن کےشفیق الدین 4235 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبرپر ہیں۔
جی بی اے 2
جی بی اے 2 کا مکمل غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ موصول ہو گیاہے جہاں مسلم لیگ ن کے حفیظ الرحمٰن نے 11 ہزار 204 ووٹ لے کر میدان مار لیاہے جبکہ پیپلز پارٹی کے جمیل احمد 7376 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ۔
جی بی اے 3 گلگت
گلگت بلتستان کے حلقہ جی بی اے 3 سے آزاد امیدوار سید سہیل عباس نے 7853 ووٹ حاصل کر کے کامیابی سمیٹ لی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار آفتاب حیدر 7434 ووٹ لے کر دوسرے اور ن لیگ کے ڈاکٹر اقبال 7292 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے ۔
جی بی اے 4 نگر
جی بی اے 4 نگر 1 کے تمام 53 پولنگ سٹشنز کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ موصول ہو گیاہے جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے علی اختر 7670 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ہیں جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کے ایوب وزیری 656 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی اے 5 نگر
جی بی اے 5 نگر 2 کے تمام 32 پولنگ سٹیشنز کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج موصول ہو گئے ہیں جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے ذوالفقار مراد 2628 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ آزاد امیدوار ریاض اکبر 2394 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ۔
جی بی اے 6 ہنزہ
جی بی اے 6 ہنزہ کے 88 میں سے 10 پولنگ سٹیشن کے غیر سرکاری نتائج موصول ہو گئے ہیں جس کے مطابق نیک نام کریم 691 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے امتیاز الحق 529 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 7 اسکردو
جی بی اے 7 سکردو 1 کے تمام 31 پولنگ سٹیشنز کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ موصول ہو گیاہے جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے توقیر مہدی نے4320 ووٹ لے کر میدان مار لیا ہے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے جلال حسین 3891 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی اے 8 اسکردو
جی بی اے8 اسکردو کا مکمل غیرحتمی غیرسرکاری نتیجہ موصول ہو گیاہے جس کے مطابق ایم ڈبلیوایم کے امیدوار میثم کاظم 10474 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کےسید محمد علی شاہ10118ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی اے 9 سکردو
آزاد امیدوار وزیر سلیم، پی پی کے فدا نوشاد پیچھے
جی بی اے 10 اسکردو
جی بی اے 10 سکردو 4 کے 51 پولنگ سٹیشنز میں سے 5 کے نتائج سامنے آ گئے ہیں جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے راجہ ناصر 387 ووٹ لے کر آگے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے خان وزیر 317 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 11 کھرمنگ
جی بی اے 11 کھرمنگ کے تمام 51 پولنگ سٹیشنز کا غیر سرکاری نتیجہ موصول ہو گیاہے جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے اقبال حسن 6141 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے محسن رضوی 4170 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے ۔
جی بی اے12شگر
جی بی اے 12 شگر کا مکمل غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ موصول ہو گیاہے ، پیپلزپارٹی کے امیدوار عمران ندیم 12179 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کے راجہ اعظم خان 7700ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی اے 13 استور
جی بی اے 13 استور کے 57 میں سے 36 پولنگ اسٹیشنز کا غیر سرکاری نتیجہ سامنے آ گیاہے،پاکستان مسلم لیگ ن کے رانا فرمان علی 5506 ووٹ کے ساتھ آگے ہیں جبکہ آزاد امیدوار شاہدہ خورشید 5485 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں، پاکستان پیپلزپارٹی کے فہد حنیف 4803 ووٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 14 استور
جی بی اے14استور کے 51 میں سے 40 پولنگ سٹیشنز کا غیرحتمی غیرسرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے رانا فاروق 6119 ووٹ لیکرآگے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کےسید عباس موسوی5640ووٹوں کے ساتھ دوسرےنمبر، استحکام پاکستان پارٹی کے شمس الحق لون4941ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 15 دیامر
آزاد امیدوار دلپزیر آگے، آئی پی پی امیدوار پیچھے
جی بی اے 16 دیامر
جی بی اے 16 دیامر 2 کے تمام پولنگ سٹیشنز کے نتائج موصول ہو گئے ہیں ، آزاد امیدوار سید امام مالک نے 6664 ووٹ لے کر سیٹ جیت لی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار عطاللہ 5273 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ۔
جی بی اے 17 دیامر
پی پی کے محمد نسیم آگے، جے یو آئی ف کے رحمت خالق پیچھے
جی بی اے 18 دیامر
آئی پی پی کے گلبر آگے، ن لیگ کے ملک کفایت پیچھے
جی بی اے 19 غذر
جی بی اے 19 عذر 1 کے 78 میں سے 2 پولنگ سٹیشن کے غیر سرکاری نتائج سامنے آ گئے ہیں جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے سید جلال 338 ووٹ لے کر پہلے جبکہ آزاد امیدوار نواز خان 239 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 20 غذر
جی بی اے 20 عذر 2 کے 69 میں سے 2 پولنگ سٹیشن کے نتائج موصول ہو گئے ہیں جس کے مطابق ن لیگ کے عبدالجہان 209 ووٹ لے کر پہل جبکہ پیپلز پارٹی کے نذیر احمد 116 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں ۔
جی بی اے 21 غذر
ن لیگ کے غلام محمد، پی پی کے ایوب شاہ پیچھے
جی بی اے 22 گانچھے
جی بی اے 22 گانچھے 1 کے تمام 58 پولنگ سٹیشنز کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ موصو ل ہو گیاہے جس کے مطابق مسلم لیگ ن کے محمد ابراہیم ثنائی نے 12048 ووٹ لے کر میدان مار لیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر عاشق حسین 9258 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی اے 23 گانچھے
گلگت بلتستان کے حلقہ جی بی اے 23 گانچھے 2 کے تمام 50 پولنگ سٹیشنز کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ موصول ہو گیا ہے جس کے مطابق آزاد امیدوار انور علی 12 ہزار 90 ووٹ لے کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ آزاد امیدوار حاجی عبدالحمید نے 3870 ووٹ حاصل کیئے اور دوسرے نمبر پر رہے ۔
جی بی اے 24 گانچھے
جی بی اے 24 گانچھے 3 کے تمام 46 پولنگ سٹیشن کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج موصول ہو گئے ہیں جس کے مطابق آزاد امیدوار اسد شفیق نے 8092 ووٹ لے کر میدان مار لیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل 5072 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ۔
گلگت بلتستان انتخابات کے لیے 24 جنرل نشستوں پر پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بلاتعطل جاری رہا،بڑی تعداد میں عوام نےجوش و خروش کے ساتھ پولنگ مراکز کا رخ کیا۔ انتخابات میں 24 نشستوں پر چناؤ کیلئے پولنگ کے بعد گنتی جاری ہے۔ غیرحتمی غیرسرکاری نتائج آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
خواتین نے بھی بڑی تعداد میں انتخابی عمل میں حصہ لیا۔ معمر اور خصوصی افراد بھی کسی سے پیچھے نہ رہے۔ دن بھر پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی لمبی لمبی قطاریں نظر آئیں۔ مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال بہتر رہی۔ پیپلزپارٹی ۔ ن لیگ اور استحکام پاکستان پارٹی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ نظر آیا۔
الیکشن میں 8 خواتین سمیت مجموعی طور پر 403 امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ 9 لاکھ 63 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی کا استعمال کیا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں 1391 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے، 349 پولنگ اسٹیشن حساس اور 551 انتہائی حساس قرار دیا گیا۔
پیپلز پارٹی 23 ، ن لیگ 22، استحکامِ پاکستان پارٹی 15، پاکستان مسلم لیگ11 اور جے یو آئی ف کے 9 امیدوار میدان میں ہیں۔ ایم ڈبلیو ایم 7، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے 6 ،6 امیدوار انتخابی دوڑ میں شامل ہیں جبکہ 266 آزاد امیدوار بھی مختلف حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔
انتخابات کو پر امن بنانے کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات انتخابات کیے گئے،مقامی پولیس، جی بی اسکاؤٹس اور پنجاب پولیس کی بھاری نفری بھی سکیورٹی کے لیے موجود رہی۔
پیپلزپارٹی کا گلگت بلتستان انتخابات کے دوران فارم 45 فراہم نہ کئے جانے کا دعویٰ
پیپلزپارٹی نے گلگت بلتستان انتخابات کے دوران فارم 45 فراہم نہ کئے جانے کا دعویٰ کردیا۔
ایک بیان میں سیکرٹری جنرل پیپلزپارٹی نیئرحسین بخاری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پیپلزپارٹی کو فارم45 فراہم نہیں کئے جا رہے، ہمیں کہا جا رہا ہے آپ فی الحال نکل جائیں۔
نیئرحسین بخاری نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر سے رابطہ کرکےمعاملے سے متعلق آگاہ کیا ہے، چیف الیکشن کمشنر سے رابطہ کرکے معاملے سے متعلق آگاہ کیا ہے، چیف الیکشن کمشنر سے رابطہ کرکے معاملے سے متعلق آگاہ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کوفوری طور پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
دوسری جانب میڈیا سے گفتگو میں چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجا شہباز خان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان بھر میں انتخابات پُرامن ماحول میں منعقد ہوئے اور اب تک کسی قسم کی شکایت موصول نہیں ہوئی۔
چیف الیکشن کمشنر نے مختلف پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کرکے انتخابی عمل کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ پولنگ اسٹیشنز میں موجود ووٹرز اپنے ووٹ کاسٹ کر رہے ہیں اور عوام نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ انتخابی عمل میں حصہ لیا۔
گلگت بلتستان میں تاریخی اور پُرامن انتخابات، 70 فیصد ووٹ کاسٹ ہوئے: چیف الیکشن کمشنر
چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجا شہباز خان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان بھر میں انتخابات پُرامن ماحول میں منعقد ہوئے اور اب تک کسی قسم کی شکایت موصول نہیں ہوئی۔
چیف الیکشن کمشنر نے مختلف پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کرکے انتخابی عمل کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ پولنگ اسٹیشنز میں موجود ووٹرز اپنے ووٹ کاسٹ کر رہے ہیں اور عوام نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ انتخابی عمل میں حصہ لیا۔
راجا شہباز خان نے کہا کہ وہ انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے پر عوام کے شکر گزار ہیں۔ ان کے مطابق انتخابات کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 15 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں تاریخی انتخابات ہوئے ہیں اور عوام میں سیاسی شعور بڑھا ہے، جس کے باعث تقریباً 70 فیصد ووٹ کاسٹ ہوئے۔ چیف الیکشن کمشنر کے مطابق 2020 کے انتخابات میں اتنا جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آیا تھا جتنا اس بار دیکھنے کو ملا۔
انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان بھر میں انتخابات پُرامن ماحول میں منعقد ہوئے اور الیکشن کمیشن کو کسی قسم کی شکایت موصول نہیں ہوئی۔
چلاس: ن لیگ اور آزاد امیدوار کے کارکنوں میں تصادم، 4 افراد زخمی
گلگت بلتستان کے علاقے چلاس میں ن لیگ اور آزاد امیدوار کے کارکنوں میں تصادم کے نتیجے میں 4 افراد زخمی ہوگئے۔
چلاس کے جی بی اے15 دیامر ون کے لوشی پولنگ اسٹیشن پر2گروپوں میں تصادم ہوا ہے،فائرنگ اور پتھراؤ سے 4 افراد زخمی ہوگئے۔ لوشی پولنگ اسٹیشن کو پہلے سے حساس قرار دیا گیا تھا، تصادم کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان انتخابات کے لیے 24 جنرل نشستوں پر پولنگ کا وقت ختم ہوگیا۔ پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بلاتعطل جاری رہا۔ بڑی تعداد میں عوام نےجوش و خروش کے ساتھ پولنگ مراکز کا رخ کیا۔ انتخابات میں 24 نشستوں پر چناؤ کیلئے پولنگ کے بعد گنتی جاری ہے۔ غیرحتمی غیرسرکاری نتائج آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
گلگت بلتستان انتخابات، کون آگے کون پیچھے؟ نتائج آنے کا سلسلہ شروع
گلگت بلتستان انتخابات کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ شروع ہو گیاہے ۔
جی بی اے 15
جی بی اے 15 دیامر میں آزاد امیدوار دلپزیر آگے ہیں جبکہ آئی پی پی کے امیدوار دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 13 استور
جی بی اے 13 استور سے بھی غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجہ موصول ہو گیاہے جس کے مطابق ن لیگ کے رانا فرمان آگے چل رہے ہیں جبکہ فہد حمید دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 4 نگر
جی بی اے 4 نگر سے اسلامی تحریک کے ایوب وزیری آگے چل رہے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے علی اختر پیچھے ہیں۔
جی بی اے 12 شگر
جی بی اے 12 شگر سے اب تک موصول نتائج کے مطابق اسلامی تحریک کے راجہ اعظم آگے چل رہے ہیں جبکہ پی پی کے عمران ندیم پیچھے ہیں۔
جی بی اے 19 غذر
جی بی اے 19 سے پی پی کے سید جلال آگے ہیں جبکہ بی این ایف کے نواز خان پیچھے ہیں ۔
گلگت بلتستان انتخابات کے لیے 24 جنرل نشستوں پر پولنگ کا وقت ختم ہوگیا۔ پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بلاتعطل جاری رہا۔ بڑی تعداد میں عوام نےجوش و خروش کے ساتھ پولنگ مراکز کا رخ کیا۔ انتخابات میں 24 نشستوں پر چناؤ کیلئے پولنگ کے بعد گنتی جاری ہے۔ غیرحتمی غیرسرکاری نتائج آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
خواتین نے بھی بڑی تعداد میں انتخابی عمل میں حصہ لیا۔ معمر اور خصوصی افراد بھی کسی سے پیچھے نہ رہے۔ دن بھر پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی لمبی لمبی قطاریں نظر آئیں۔ مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال بہتر رہی۔ پیپلزپارٹی ۔ ن لیگ اور استحکام پاکستان پارٹی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ نظر آیا۔
الیکشن میں 8 خواتین سمیت مجموعی طور پر 403 امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ 9 لاکھ 63 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنے نمائندوں کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں 1391 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، 349 پولنگ اسٹیشن حساس اور 551 انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں۔
پیپلز پارٹی 23 ، ن لیگ 22، استحکامِ پاکستان پارٹی 15، پاکستان مسلم لیگ11 اور جے یو آئی ف کے 9 امیدوار میدان میں ہیں۔ ایم ڈبلیو ایم 7، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے 6 ،6 امیدوار انتخابی دوڑ میں شامل ہیں جبکہ 266 آزاد امیدوار بھی مختلف حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔
انتخابات کو پر امن بنانے کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات انتخابات کیے گئے ہیں،مقامی پولیس، جی بی اسکاؤٹس اور پنجاب پولیس کی بھاری نفری بھی سکیورٹی کے لیے موجود ہے۔
استور: الیکشن ڈیوٹی کے دوران پریزائیڈنگ آفیسر دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کرگئے
گلگت بلتستان کے ضلع استور میں الیکشن ڈیوٹی کے دوران پریزائیڈنگ آفیسر دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کرگئے۔
پریزائیڈنگ آفیسر ٹیچرالیاس خاکی دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کرگئے، ضروری کارروائی کے بعد مرحوم کی میت کو عید گاہ استور منتقل کردیا گیا۔
دوسری جانب گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کےلیے جی بی اے 14 استور حلقہ ٹو میں پولنگ کا عمل پرامن ماحول میں جاری ہے۔ سیکورٹی کے بھی سخت انتظامات کے گئے ہیں۔
قبل ازیں چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجا شہباز خان کا کہنا ہے کہ خطے میں پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے بلاتعطل جاری ہے۔ عوام کے لیے سیکیورٹی کے بہترین انتظامات کیے۔
راجا شہباز خان نے کہا کہ گلگت بلتستان میں لیڈیز پولنگ اسٹیشنز میں خواتین کی بڑی تعداد دیکھنے میں آرہی ہے۔ مختلف پولنگ اسٹیشنزکادورہ کیا،عوام پرجوش ہیں، کہا عوام پرامن طریقے سے انتخابات کو انجام تک پہنچائیں اورعلاقے کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔
پولنگ کا عمل صبح سے بلاتعطل جاری ہے،چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان
چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجا شہباز خان کا کہنا ہے کہ خطے میں پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے بلاتعطل جاری ہے۔ عوام کے لیے سیکیورٹی کے بہترین انتظامات کیے۔
راجا شہباز خان نے کہا کہ گلگت بلتستان میں لیڈیز پولنگ اسٹیشنز میں خواتین کی بڑی تعداد دیکھنے میں آرہی ہے۔ مختلف پولنگ اسٹیشنزکادورہ کیا،عوام پرجوش ہیں، کہا عوام پرامن طریقے سے انتخابات کو انجام تک پہنچائیں اورعلاقے کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔
دوسری جانب نگران وزیرداخلہ گلگت بلتستان ساجد علی بیگ کا کہنا ہے کہ پرامن انتخابات کیلئے تمام وسائل بروئے کارلائے گئے، کچھ پولنگ اسٹیشنز پرووٹرلسٹوں کی بے قاعدگیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ ووٹرزنے پولیس اہلکاروں کی تعداد بڑھانے کی بھی درخواست کی ہے۔
گلگت بلتستان انتخابات میں پولنگ کا وقت ختم ہوگیا
گلگت بلتستان انتخابات کے لیے 24 جنرل نشستوں پر پولنگ کا وقت ختم ہوگیا۔ پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بلاتعطل جاری رہا۔ بڑی تعداد میں عوام نےجوش و خروش کے ساتھ پولنگ مراکز کا رخ کیا۔
گلگت بلتستان میں عام انتخابات میں 24 نشستوں پر چناؤ کیلئے ہونے والی پولنگ کا وقت ختم ہوگیا تاہم پولنگ اسٹیشنز میں موجود ووٹرز اب بھی جمہوری حق کا استعمال کرسکیں گے۔ ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بیلٹ باکسز کھولےجائیں گے۔
الیکشن میں 8 خواتین سمیت مجموعی طور پر 403 امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ 9 لاکھ 63 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنے نمائندوں کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں 1391 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، 349 پولنگ اسٹیشن حساس اور 551 انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں۔
پیپلز پارٹی 23 ، ن لیگ 22، استحکامِ پاکستان پارٹی 15، پاکستان مسلم لیگ11 اور جے یو آئی ف کے 9 امیدوار میدان میں ہیں۔ ایم ڈبلیو ایم 7، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے 6 ،6 امیدوار انتخابی دوڑ میں شامل ہیں جبکہ 266 آزاد امیدوار بھی مختلف حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔
انتخابات کو پر امن بنانے کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات انتخابات کیے گئے ہیں،مقامی پولیس، جی بی اسکاؤٹس اور پنجاب پولیس کی بھاری نفری بھی سکیورٹی کے لیے موجود ہے۔
گلگت بلتستان انتخابات: حکومت بنانے کیلئے 17 نشستیں درکار ہوں گی
گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کل منعقد ہوں گے، جس کے لیے انتظامات اور تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔
گلگت بلتستان اسمبلی میں مجموعی طور پر 33 نشستیں ہیں، جن میں 24 جنرل نشستیں شامل ہیں جن پر کل ووٹنگ ہوگی۔
اسمبلی میں 6 نشستیں خواتین جبکہ 3 نشستیں ٹیکنوکریٹس کے لیے مخصوص ہیں۔
انتخابی نتائج کے بعد حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 17 نشستوں کی حمایت درکار ہوگی تاکہ سادہ اکثریت حاصل کرکے حکومت بنائی جا سکے۔
گلگت بلتستان میں کس جماعت کی حکمرانی ہوگی؟
گلگت بلتستان میں کس جماعت کی حکمرانی ہوگی؟ 24 نشستوں پر 8 خواتین سمیت 400 سے زائد امیدوار میدان میں ہیں۔ پولنگ صبح 8 سے شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔ پولنگ کا عملہ اور سامان آج تمام اسٹیشنز پر پہنچایا جائے گا۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن آف گلگت بلتستان کی ہدایات کے مطابق تمام امیدواروں کے لیے 5 جون کی رات 12 بجے انتخابی مہم ہوگئی ہے ، جس کے بعد 7 جون کو خطے کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے پولنگ ہو گی۔
الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کی حتمی ووٹر فہرستوں کے مطابق خطے کے 10 اضلاع میں مجموعی ووٹرز کی تعداد 9 لاکھ 63 ہزار 34 ہے جن میں 5 لاکھ 6 ہزار 97 مرد اور 4 لاکھ 56 ہزار 937 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ ان ووٹرز کے لیے مجموعی طور پر 24 انتخابی حلقے قائم کیے گئے ہیں۔
گلگت بلتستان اسمبلی کل 33 نشستوں پر مشتمل ہے جن میں 24 براہ راست منتخب ارکان کے علاوہ 6 نشستیں خواتین اور 3 نشستیں ٹیکنوکریٹس کے لیے مختص ہیں۔
دیامر اور سکردو سیاسی طور پر انتہائی اہم ہیں اور ان میں سے ہر ایک ضلعے میں سب سے زیادہ یعنی 4، 4 انتخابی حلقے ہیں۔ گلگت، غذر اور گانچھے میں 3، 3 انتخابی حلقے قائم کیے گئے ہیں۔ نگر اور استور کے حصے میں 2، 2 انتخابی حلقے آئے ہیں۔ ہنزہ، شگر اور کھرمنگ چھوٹے اضلاع ہیں اور ان میں سے ہر ایک ضلعے میں 1، 1 انتخابی حلقہ موجود ہے۔
آئی پی پی کا سکردو میں عوامی قوت کا شاندار مظاہرہ ، ریلی میں شہریوں کی بڑی تعداد کی شرکت
گلگت بلتستان میں انتخابی دنگل سجنے کو تیار ہے اور سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئیں ۔ الیکشن کمپین کے آخری روز استحکام پاکستان پارٹی نے سکردو میں عوامی قوت کا مظاہرہ کیا، آئی پی پی کی جانب سے شاہی پولو گراؤنڈ سے ریلی نکالی گئی جو سکردو کے مختلف علاقوں سے ہوتی ہوئی راجہ محل پہنچی۔
اسکردو کے شاہی پولو گراؤنڈ میں استحکام پاکستان پارٹی نے پاور شو اور ریلی کا اہتمام کیا، استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار راجاجلال نے ریلی کی قیادت کی ، ریلی میں استحکام پاکستان پارٹی کے رہنماؤں نے خصوصی شرکت کی ۔ اس موقع پر راجا جلال کا کہنا تھا کہ عوام نے الیکشن کا فیصلہ ریلی میں ہی سنادیا ، سات جون کو آئی پی پی کی جیت یقینی ہے ، اقتدار میں آکر استحکام پاکستان پارٹی کے منشور کے مطابق گللگت بلتستان کے تمام بنیادی مسائل حل کریں گے ۔
ریلی میں شرکاء کی جانب سے رقص کیا گیا اور آئی پی پی کے حق میں نعرے لگائے ، انتخابی ریلی میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ، ریلی کا شہر کے مختلف چوک چوراہوں پر شاندار استقبال کیا گیا اور پھول نچھاور کئے گئے ۔
گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کا آج آخری روز، پولنگ 7 جون کو ہوگی
گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کی سیاسی گرما گرمی عروج پر ہے۔
الیکشن کمیشن آف گلگت بلتستان کی ہدایات کے مطابق تمام امیدواروں کے لیے 5 جون کی رات 12 بجے انتخابی مہم کا وقت ختم ہو جائے گا جس کے بعد 7 جون کو خطے کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے پولنگ ہو گی۔
الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کی حتمی ووٹر فہرستوں کے مطابق خطے کے 10 اضلاع میں مجموعی ووٹرز کی تعداد 9 لاکھ 63 ہزار 34 ہے جن میں 5 لاکھ 6 ہزار 97 مرد اور 4 لاکھ 56 ہزار 937 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ ان ووٹرز کے لیے مجموعی طور پر 24 انتخابی حلقے قائم کیے گئے ہیں۔
گلگت بلتستان اسمبلی کل 33 نشستوں پر مشتمل ہے جن میں 24 براہ راست منتخب ارکان کے علاوہ 6 نشستیں خواتین اور تین نشستیں ٹیکنوکریٹس کے لیے مختص ہیں۔
دیامر اور سکردو سیاسی طور پر انتہائی اہم ہیں اور ان میں سے ہر ایک ضلعے میں سب سے زیادہ یعنی 4، 4 انتخابی حلقے ہیں۔ گلگت، غذر اور گانچھے میں 3، 3 انتخابی حلقے قائم کیے گئے ہیں۔ نگر اور استور کے حصے میں 2، 2 انتخابی حلقے آئے ہیں۔ ہنزہ، شگر اور کھرمنگ چھوٹے اضلاع ہیں اور ان میں سے ہر ایک ضلعے میں 1، 1 انتخابی حلقہ موجود ہے۔
گلگت اسمبلی کی ان 24 جنرل نشستوں پر اس مرتبہ کل 396 امیدوار آمنے سامنے ہیں جن میں 266 آزاد امیدوار بھی شامل ہیں جو سیاسی جماعتوں کے لیے اپ سیٹ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔













