اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا۔
اسٹیٹ بینک مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔
اعلامیے کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی نے معاشی اشاریوں اور جیو پولیٹیکل حالات کا جائزہ لیا، مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں معیشت کیلئے نئے چیلنجز پیدا ہوئے۔
اجلاس میں ایران امریکا معاہدے ، تیل کی گرتی قیمت اور بجٹ اقدامات کے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا، بیان کے مطابق تیل کی بڑھتی قیمت کے دباؤ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔
معاشی ماہرین کے مطابق رواں مالی سال کی آخری اور بجٹ کے فوری بعد آنے والی یہ مانیٹری پالیسی نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ اس وقت ملک میں بنیادی شرح سود 11.5 فیصد ہے جبکہ اس سے قبل مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔





















