اسلام آباد کو جدید ، خودمختار اور با اختیار شہر بنانے کی بڑی تیاریاں جاری ہیں۔ نئی گورننس اسٹرکچر تجاویز سامنے آگئیں۔ وفاقی دارالحکومت کی اپنی اسمبلی، منتخب نمائندے اور اپنا چیف ایگزیکٹو ہوگا۔
سماء سے خصوصی گفتگو وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد کے چھوٹے سے چھوٹے قانون کیلئے بھی قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری لینا پڑتی ہے۔
گورننس اسٹرکچر میں تبدیلی کے بعد آئی سی ٹی اور سی ڈی اے کے مختلف اختیارات مرحلہ وار نئی قیادت کو منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔ ممکنہ طور پر یہ تبدیلیاں ایگزیکٹو آرڈر یا آئینی ترمیم کے ذریعے لائی جائیں گی۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ صوبوں میں یہ اختیار صوبائی اسمبلیوں کے پاس ہوتا ہے، اسلام آباد کی بھی اپنی باقاعدہ اسمبلی قائم کی جائے گی، مجوزہ اسمبلی میں تقریباً 20 سے 22 نشستیں ہوں گی۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور کے مطابق چیف ایگزیکٹو کو اسمبلی کے اراکین اکثریتی ووٹ سے منتخب کریں گے، آئی سی ٹی ، سی ڈی اے کے اختیارات بھی مرحلہ وار منتقل کیے جا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اثاثے، سرکاری زمین اور اہم حکومتی امور وفاق کے پاس ہی رہیں گے، اسلام آباد سے حاصل ہونے والا ریونیو وفاق کے اکاؤنٹ میں جاتا ہے، ریونیو کو مقامی سطح پر انفرااسٹرکچر، دیہی علاقوں کی ترقی پر خرچ کیا جانا چاہیے۔






















