سائنس دانوں نے 5300 برس قدیم ایک ممی سے حاصل کیے گئے خمیر کو استعمال کرتے ہوئے کامیابی کے ساتھ ساور ڈو روٹی تیار کر لی ہے، جو خمیری آٹے سے بنائی جاتی ہے۔
یہ نایاب فنگس یورپ کی قدیم ترین دریافت شدہ انسانی ممی ’’اوٹزی دی آئس مین‘‘ سے حاصل کی گئی، جسے اب تک ملنے والی سب سے قدیم انسانی ممیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
تحقیق کے دوران سائنس دانوں کو منجمد لاش کے اندر جمع بھورے رنگ کے پگھلے ہوئے پانی میں خمیر کی چار مختلف اقسام دریافت ہوئیں۔
ڈی این اے تجزیے سے معلوم ہوا کہ اس خمیر کو بھی وہی قدیم نوعیت کا نقصان پہنچا تھا جو ممی میں موجود دیگر جرثوموں میں دیکھا گیا، جس سے محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ فنگس غالباً اس شخص کی موت کے فوراً بعد اس کے جسم میں داخل ہوئی تھی۔
یوریک ریسرچ انسٹیٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے محقق محمد سارہن کے مطابق جب لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ قدیم خمیر دریافت ہوا ہے تو ان کا پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ کیا اس سے روٹی بنائی جا سکتی ہے۔
محققین کے مطابق ابتدائی مراحل میں اس قدیم خمیر کو دوبارہ فعال اور قابلِ استعمال بنانا ممکن نہ ہو سکا، تاہم تین ماہ کی مسلسل تحقیق اور محنت کے بعد سائنس دان اسے دوبارہ زندہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
بعد ازاں اسی خمیر کی مدد سے ایک "انتہائی عمدہ" ساور ڈو روٹی تیار کی گئی، جسے تحقیق کی ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔




















