برطانوی پاکستانی کاروباری شخصیت اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر محمد سرور خواجہ کو تعلیم، ٹیکنالوجی، کاروبار اور سماجی خدمات کے شعبوں میں نمایاں خدمات پر پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزازات میں سے ایک “ستارۂ امتیاز” سے نواز دیا گیا۔
ایوانِ صدر میں منعقدہ ایک پروقارتقریب میں صدرِ پاکستان آصف زردری نے انہیں یہ اعزاز عطا کیا۔ تقریب میں چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی ، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق ، وفاقی و صوبائی وزرا، سفارتکاروں اور سماجی و کاروباری حلقوں کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب میں پڑھ کر سنائے گئے تعارفی کلمات میں کہا گیا کہ ڈاکٹر سرور خواجہ نے تعلیم، ٹیکنالوجیکل ترقی، کاروباری جدت اور سماجی فلاح کے میدانوں میں غیرمعمولی خدمات انجام دیں جبکہ پاکستان کا عالمی وقار بلند کرنے اور سماجی و معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
لاہور میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر سرور خواجہ برطانیہ کے اعلیٰ تعلیمی انتظامی شعبے کی نمایاں شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے برطانیہ میں پاکستانی قیادت میں چلنے والے بڑے نجی تعلیمی مینجمنٹ نیٹ ورک کی بنیاد رکھی اور اپنی تعلیمی و اسکل ڈیولپمنٹ اسکیموں کے ذریعے دنیا بھر میں 40 ہزار سے زائد افراد کی زندگیاں بدلنے میں کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر سرور محمد خواجہ لاہور میں پاکستان کی پہلی مصنوعی ذہانت یونیورسٹی لانچ کر رہے ہیں، جسے یونیورسٹی آف آرٹیفیشل انٹیلی جنس اینڈ ایمرجنگ سائنسز کہا جائے گا۔
وہ لندن میں قائم ایس کے ہب کے بانی اور چیئرمین ہیں اور کئی ممتاز بین الاقوامی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں، جن میں یورپی اقتصادی سینیٹ میں سینیٹر اور یورپی کونسل آن گلوبل ریلیشنز کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دینا شامل ہیں۔
ڈاکٹر خواجہ نے پاکستان کے تعلیمی ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس میں پنجاب میں ملک کی پہلی آرٹیفیشل انٹیلی جنس یونیورسٹی کے چارٹر کی کامیاب سہولت بھی شامل ہے۔ سماجی بہبود اور کمیونٹی کو بااختیار بنانے کے شعبوں میں ان کی شراکتیں اکادمی سے آگے بڑھی ہیں اور اس نے پسماندہ کمیونٹیز کی مدد کے لیے اقدامات کی قیادت کی ہے، جبکہ لاہور اور قصور میں ڈائیلاسز سینٹرز سمیت صحت کی دیکھ بھال کے اہم ڈھانچے کو بھی فنڈ فراہم کیا ہے۔
ڈاکٹر سرور خواجہ نے اسٹریٹجک بین الاقوامی تعاون کے ذریعے عالمی سطح پر پاکستان کی سافٹ پاور کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس میں معروف فیشن آئیکون کے دورہ پاکستان میں سہولت فراہم کرنا اور ملک میں عالمی معیار کی فیشن اکیڈمی کے قیام میں تعاون شامل ہے۔
اپنی فلاحی کوششوں کے ذریعے، پروفیسر ڈاکٹر خواجہ نے پنجاب بھر میں ہزاروں طالب علموں کے لیے مفت تعلیم تک رسائی کو ممکن بنایا ہے اور ساختی مہارتوں کی نشوونما اور مالی شمولیت کے پروگراموں کے ذریعے سینکڑوں خواتین کو بااختیار بنایا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر خواجہ نے اس اعزاز کے لیے تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز عوامی خدمت اور آنے والی نسلوں کی ترقی کے لیے اجتماعی عزم کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا: "ستارہ امتیاز کا اعزاز تعلیمی اہمیت، اختراع اور قومی ترقی کے لیے میری زندگی بھر کی لگن کو تسلیم کرنے کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
ڈاکٹر سرور خواجہ کا کہنا تھا کہ لاہور میں پاکستان کی پہلی اے آئی یونیورسٹی کے قیام میں ہمیں سہولت فراہم کرنے پر پاکستانی حکومت کا شکر گزار ہوں۔
سرور خواجہ 1968 میں لاہور میں پیدا ہوئے، انہوں نے ابتدائی تعلیم لاہور سے مکمل کی۔ وہ ہارورڈ، آکسفورڈ، کیمبرج، بکنگھم شائر نیو یونیورسٹی اور سٹی یونیورسٹی آف لندن کے سابق طالب علم ہیں۔





















