پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے کتابوں کے پلاسٹک کور پر پابندی کا بل منظور ہونےکے بعد ’’اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری پروہیبیشن آف پلاسٹک بک کورز بل 2026‘‘فوری نافذ ہوگیا ، شیری رحمان نے بل کی منظوری کو تاریخی ماحولیاتی کامیابی قرار دیدیا ۔
بل کی محرک شیری رحمان کا کہنا تھا کہ منظور کیا گیا بل سنگل یوز پلاسٹک اور زہریلے ’’فاریور کیمیکلز‘‘ کے خلاف فیصلہ کن قدم ہے ۔ پلاسٹک کو ختم ہونے میں ایک ہزار سال تک لگ سکتے ہیں ۔ پلاسٹک دریاؤں ، نالوں ، لینڈ فلز ، ساحلی علاقوں اور ماحول میں مستقل آلودگی پھیلا رہا ہے ۔ دنیا بھر میں چالیس کروڑ ٹن سے زائد پلاسٹک فضلہ پیدا ہو چکا ۔ پاکستان میں پلاسٹک کچرے کا سالانہ حجم تقریباً تین ملین ٹن ۔ جبکہ صرف تقریباً تین فیصد پلاسٹک ری سائیکل ہوتا ہے ۔ قانون کے تحت پہلی خلاف ورزی پر پچاس ہزار روپے سے زائد جرمانہ عائد ہوگا ۔ شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف شکایات درج کرائیں ۔ بڑے ریٹیلرز پلاسٹک کورز سمیت تمام غیر ضروری پلاسٹک مواد کا استعمال ختم کریں ۔ دنیا بھر میں سنگل یوز پلاسٹک کے استعمال میں تیزی سے کمی آ رہی ہے ۔ پاکستان کو بھی عملی اقدامات کرنا ہوں گے ۔





















