انٹرنیشنل ریٹنگ ایجنسی فچ کا مشرق وسطی میں سیز فائر کیلئے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف، ریٹنگ بی نیگیٹیو برقرار تاہم معاشی آوٹ لک کو مستحکم قرار دیدیا۔
عالمی ریٹنگ ایجنسی نے پاکستان کی معیشت میں مالیاتی نظم و ضبط اور معاشی استحکام کی جانب پیش رفت کی نشاندہی کردی،پاکستان کی طویل مدتی ریٹنگ کو بی نیگیٹو پر برقرار رکھتے ہوئے آوٹ لک مستحکم قرار دے دی۔
فچ کےمطابق آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سےمالی ضروریات پوری کرنےکی صلاحیت کوسہارا ملا ۔ گزشتہ ایک سال کےدوران زرمبادلہ کےذخائرمیں اضافہ ہوا جومعیشت پرجنگ کےاثرات میں حفاظتی ڈھال بنی، جنگ بندی میں کردارسےبھی پاکستان کومعاشی فوائد مل سکتے ہیں جس سے بیرونی دباؤ کم ہو سکتاہے،پاکستان رواں ماہ متحدہ عرب امارات کو ساڑھےتین ارب ڈالر قرض واپس کرے گا جبکہ دیگر ممالک کے 9 ارب 20 کروڑ ڈالر ڈیپازٹس رول اوور ہونے کی توقع ہے۔
فچ ریٹنگز کےمطابق عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے آئندہ مہینوں میں پاکستان میں مہنگائی بڑھنےکاخدشہ ہے،رواں مالی سال مہنگائی 7.9فیصد رہنے کا امکان ہے،حکومت نےدیگر اخراجات کم کرکے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹارگٹڈ سبسڈی دی ہے جس سے مالی خسارہ قابو میں رہے گا۔
رواں مالی سال مالی خسارہ 5.3 فیصد رہنےکی توقع ہے،پرائمری سرپلس ہدف سے 0.3 فیصد کم 2.1 فیصد رہنے کا امکان ہے،آئی ایم ایف قرض پروگرام سےایک ارب 20 کروڑڈالرکی اگلی قسط کی منظوری کے بعد زرمبادلہ ذخائر میں بہتری آئے گی۔
فچ کےمطابق موجودہ مالی سال معاشی شرح نمو 4.2 فیصد کےہدف کے مقابلے میں تین اعشاریہ ایک فیصد رہنےاوربیرونی قرض ادائیگیاں 8 ارب ڈالر سےبڑھ کر 12 ارب 88 کروڑ ارب ڈالرتک پہنچنے کا امکان ہے،کرنٹ اکاونٹ ایک اعشاریہ ایک فیصد خسارے میں جا سکتا ہے۔






















