نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاریاں شروع کر دی گئیں ہیں اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے کاروباری تنظیموں کی ورچوئل میٹنگ کی اندرونی کہانی بھی منظر عام پر آ گئی ہے ۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے نئے بجٹ میں سپر ٹیکس کے خاتمے یا کمی کی یقین دہانی کرا دی،رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں تیزی لانے کیلئے جلد پیکیج کا اعلان کیا جائے گا،دبئی سے زرمبادلہ کی واپسی، ترسیلات زر میں بہتری ریکارڈ کی گئی ،غیرمنقولہ جائیداد پر فرضی آمدن پر عائد ٹیکس کے خاتمے کی تجویز بھی ہے ۔
ذرائع کا کہناہے کہ کاروباری طبقے نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کیلئے پیکج کا اعلان بجٹ سے پہلے کرنے کا مطالبہ کر دیاہے ۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ مشرق وسطیٰ جنگ کی وجہ سے دبئی سے سرمایہ پاکستان آنا شروع ہو گیاہے ، انکم ٹیکس سے متعلق قانون کی شق سیون ای واپس لینےکا اعلان متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق اورسیز پاکستانیوں کو رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کیلئے مراعات دینے کی تجویز ہے،حکومت نے نئے بجٹ میں تنخواہ دار طبقےکو ریلیف دینے کا عندیہ بھی دے دیا ہے جبکہ کاروباری تنظیموں نے برآمدی شعبے کیلئے ٹیکس ریٹس میں کمی کامطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کا کہناتھا کہ ورچوئل اجلاس میں ایس ایم ایز سیکٹر کو آسان قرضوں کی فراہمی ، سرمایہ کاری کیلئے مراعات،صنعتی مشینری وخام مال پر ٹیکس کم کرنے کا مطالبہ کیا گیاہے ۔کاسٹ آف ڈوئنگ بزنس میں کمی، ایئر آف ڈوئنگ یقینی بنانے پر زور دیا گیا ۔
آئی ٹی، فارما سیوٹیکل، معدنیات، کان کنی، زرعی شعبے کو ریلیف دینے ، مختلف شعبوں کیلئے صنعتی پالیسی کا جلد اعلان کرنے کامطالبہ کیا گیا ۔ٹیکس شعبے کی مرحلہ وار ڈیجیٹلائزیشن اور قواعد و ضوابط میں آسانی پر زور دیا ہے۔





















