پی ٹی اے نے چھوٹے موبائل فون آپریٹرز ایم وی این او لائسنسنگ فریم ورک کا مسودہ جاری کردیا۔ اسٹیک ہولڈرز سے آراء طلب کرلیں۔ نئی پالیسی کے تحت 15 سالہ لائسنس اور فیس کا تعین کیا جائے گا۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے اسٹیک ہولڈرز کو تجاویز پیش کرنے کیلئے 14 دن کی مہلت دی گئی ہے جبکہ آخری تاریخ 22 اپریل مقرر کی گئی ہے۔
فائیو جی سپیکٹرم کی متوقع نیلامی کے بعد پی ٹی اے نے ایم وی این او لائسنس جلد جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے مشاورتی عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ مجوزہ فریم ورک کے تحت ایم وی این او لائسنس کیلئے ایک لاکھ 40 ہزار امریکی ڈالر فیس مقرر کی گئی ہے جبکہ لائسنس کی مدت 15 سال ہوگی اور تجدید کیلئے 30 ماہ قبل درخواست دینا لازمی ہوگا۔
مالی شرائط کے مطابق سالانہ لائسنس فیس اعشاریہ پانچ فیصد، یونیورسل سروس فنڈ ایک اعشاریہ پانچ فیصد اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اعشاریہ پانچ فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
فریم ورک کے تحت ایم وی این اوز کو اپنے برانڈ کے تحت سروسز فراہم کرنے، پیکجز بنانے اور کسٹمر کیئر و بلنگ سسٹمز قائم کرنے کی اجازت ہوگی تاہم انہیں اپنا نیٹ ورک یا اسپیکٹرم رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
پی ٹی اے کے مطابق ایم وی این اوز کو ملک بھر میں سروسز فراہم کرنے کی اجازت ہوگی جبکہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔





















