حکومت نے آئی ایم ایف کو گورننس اینڈ اینٹی کرپشن اصلاحات تیز کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔
تفصیلات کے مطابق مالی جرائم کی تحقیقات کیلئےقانون نافذ کرنےوالےاداروں کی استعداد کار بہتر بنانے، سرکاری افسران کے اثاثے دسمبر 2026 تک پبلک کرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے،بینکوں کو سرکاری افسران کے اثاثوں تک رسائی دی جائے گی۔
دستاویز کےمطابق اعلی سرکاری افسران کے اثاثے ڈیجیٹل طریقے سے جمع کرنےکا نظام بنایا جائےگا،لوٹی گئی دولت بیرون ملک سےواپس لانےکیلئے عالمی معاہدوں میں بہتری کا پلان ہے،منجمد،ریکور شدہ اور واپس لائے گئے اثاثوں کا ڈیجیٹل ڈیٹا بیس تیارکیا جائے گا،ایسٹ ریکوری اورمنیجمنٹ یونٹس کو مضبوط بنایاجائے گا،ایف بی آر اثاثہ جات جمع کروانے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم بنائے گا،کرپشن کے خطرات کم کرنے کے لیے 10 بڑے محکموں کی نشاندہی کا فیصلہ کیا گیا ہے،مشکوک مالی ٹرانزیکشنز رپورٹ کرنے کے معیار اور تعداد میں اضافہ کیا جائے گا،کرپشن کے خلاف ایکشن پلان اکتوبر 2026 تک تیار ہوگا،
دستاویز کےمطابق آئی ایم ایف کو یقن دہانی کرائی گئی کہ حکومت ہر 6 ماہ بعد اصلاحات کی رپورٹ جاری کرے گی،نیب کو مزید خودمختاری دی جائے گی،نیب اس سال کرپشن سے متعلق نیشنل رسک اسیسمنٹ کرے گا،اینٹی منی لانڈرنگ،کاؤنٹر ٹیرر فنانسنگ اتھارتی کے تحت ٹاسک فورس قائم کی جائے گی،نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر، آڈیٹر جنرل، ایس ای سی پی سمیت دیگر ادارے شامل ہوں گے۔
حکومت نے نیب چیئرمین کی تعیناتی کا طریقہ کار بھی بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے،آئی ایم ایف نے نیب چیئرمین کی تقرری کیلئے اپوزیشن کی نمائندگی سمیت کمیشن قائم کرنے پر زور دیا،نیب میں میرٹ، شفاف اور اوپن سلیکشن سسٹم متعارف ہوگا،نیب کے قواعد اور کارکردگی رپورٹ عوام کے لیے جاری کی جائے گی،منی لانڈرنگ سے متعلق تحقیقات اور سزاؤں کے طریقہ کار کو مضبوط کیا جائے گا






















