مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی توانائی بحران شدت اختیار کرگیا۔ صورتحال سے نمٹنے کیلئے تین بڑے عالمی مالیاتی اداروں نے مشترکہ گروپ بنانے کا اعلان کردیا۔
مشترکہ گروپ میں آئی ایم ایف، عالمی بینک اور بین الاقوامی توانائی ایجنسی شامل ہے۔ گروپ جنگ کے عالمی معاشی اثرات کا مشترکہ جائزہ لے کر متاثرہ ممالک کو مالی مدد فراہم کرے گا۔
ترجمان آئی ایم ایف کے مطابق جنگ کے عالمی معاشی اثرات کا مشترکہ جائزہ لیا جائے گا، متاثرہ ممالک کو مالی مدد فراہم کی جائے گی، متاثرہ ممالک کو پالیسی رہنمائی اور سپورٹ بھی دی جائے گی۔ اس عمل میں عالمی شراکت داروں کو بھی شامل کیا جائے گا۔
بیان کے مطابق جنگ کے باعث تیل، گیس اور کھاد کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہوا، جنگ سے غریب اور درآمدی ممالک سب سے زیادہ متاثر ہیں، کشیدگی جاری رہی تو خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
ترجمان آئی ایم ایف نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کشیدگی سے عالمی سپلائی چین شدید متاثر ہوئی ہے، سیاحت اور پروازوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، جنگ سے ترقی پذیر ممالک کی کرنسیاں بھی دباؤ کا شکار ہیں، مہنگائی میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا،عالمی معاشی رفتار سست ہونے کا امکان ہے۔ متاثرہ ملکوں کے مرکزی بینک سخت پالیسی اختیار کرسکتے ہیں۔






















