وزیرپیٹرولیم علی پرویزملک نے وزیرستان بلاک میں سپن وام-ون سے پیداوار کا افتتاح کر دیا اور کہا کہ مقامی کمپنیوں نے آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کیلئے بھرپور کردار ادا کیا ۔ عالمی بحران میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی برقرار رکھے ہوئے ہیں ۔
وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا ایل این جی میں فورس میجور کے باوجود پاکستان میں خلا محسوس نہیں کیا گیا۔ اسپن وام کنویں سے یومیہ چالیس ایم ایم سی ایف گیس اور دو سو بیس بیرل کنڈینسیٹ کی پیداوار کا آغاز ہو گیا ۔ ایسی دریافتیں پاکستان کی توانائی سلامتی کو مضبوط کرتی ہیں ۔ اس منصوبے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کمپنیوں کے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں ۔ وزیرستان جوائنٹ وینچر میں ماڑی انرجیز لمیٹڈ ، او جی ڈی سی اور اورینٹ پیٹرولیم شامل ہیں ۔ اعلامیہ کے مطابق شیوا- ون کی دریافت کے بعد سپن وام - ون وزیرستان بلاک میں دوسرا کامیاب کنواں ہے۔





















