ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ امریکا مذاکرات کی بات کر رہا ہے لیکن خفیہ طور پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔
ایک بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ اہم موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ ایرانی مسلح افواج امریکی زمینی کارروائی کا انتظار کررہی ہیں تاکہ امریکا اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو سخت سزا دے سکیں۔
دوسری جانب ترجمان ایرانی حکومت فاطمہ مہاجرانی کا کہنا ہے کہ ایران پائیدار امن کی جانب بڑھنے کے لیے تیار ہے لیکن کسی بھی مذاکرات میں ہرجانے کا معاملہ زیرِ بحث آنا چاہیے۔
فاطمہ مہاجرانی نے موقف واضح کردیا کہ ایران نے اس جنگ کا آغاز نہیں کیا لیکن نقصان بہت اٹھایا۔ اعلیٰ قیادت سمیت سیکڑوں ایرانی حملوں میں شہید ہوئے۔ شہریوں کے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا گیا۔ ہرجانے کے ساتھ ساتھ ہرمز پراختیار اور پابندیوں کا خاتمہ بھی اہم نکات ہیں جو مذاکرات میں زیر بحث آنے چاہیں۔





















