خطےمیں جاری جنگ اور اس کے اثرات کم سے کم کرنے کیلئے ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانے پر غور شروع کر دیا گیاہے ، توانائی اور فیول کی بچت کیلئے ایک ماہ کیلئے ہائبرڈ ورکنگ ماڈل نافذ کرنے کی بھی تجویز ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت کا کفایت شعاری اقدامات مزید سخت کرنے کا پلان ہے تاہم قومی سطح پر فریقین سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ ہوگا،توانائی اور فیول بچت کے لیے ہائبرڈ ورکنگ پالیسی پر غور کیا جارہاہے جو کہ ایک ماہ کیلئے نافذ کرنے کی تجویز ہے ۔
ہائبرڈ ورکنگ ماڈل کے تحت 5 روزہ سرکاری دفاتر میں 3 دن حاضری اور 2 دن آن لائن کام ہوگا جبکہ 6 روزہ سرکاری دفاتر میں 4 دن حاضری، 2 دن آن لائن کام کی تجویز ہے، دفاتر میں 50 فیصد روٹا نافذ کرکے آمدورفت اور وسائل میں کمی کا ہدف رکھا جانے کا امکان ہے ۔
آن لائن حاضری کے لیے مانیٹرنگ سسٹم قائم کر دیا گیا ہے ،65 فیصد حاضری لازمی ہوگی، آن لائن اور آفس ورکنگ دونوں کے ہفتہ وار ورکنگ آڈٹ لازمی قرار دیاجائے گا، اسمارٹ لاک کے دوران نجی دفاتر میں بھی 50 فیصد آن لائن ورکنگ کی تجویز ہے۔
سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر سخت پابندیاں اور خلاف ورزی پر کارروائی ، گاڑیوں کے غیر ضروری استعمال پر 3 ماہ فیول ریکوری اور گاڑی ضبطی کی تجویز زیر غور ہے ۔
ذرائع کے مطابق سینئر سرکاری افسران کے لیے کمبائن ٹرانسپورٹ استعمال کرنے ، صبح ساڑھے 10 بجے سے پہلے ایئرکنڈیشنز کے استعمال پر پابندی لگانے ، 60 دن کے اندر 50 فیصد سرکاری دفاتر کو سولر پر منتقل کرنے ، ملک بھر میں بازار اور شاپنگ سینٹرز رات کو جلد بند کرنے کی بھی تجویز پر غور جاری ہے ۔
شادی ہالز اور تقریبات میں ون ڈش،200 افراد کی حد اور رات 10 بجے کی اجازت ہوگی، بجلی و فیول سہولیات میں ملازمین کو 3 ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کی تجویز دی گئی ہے ۔
ذرائع کا کہناتھا کہ انٹرنیٹ و ٹیلی فون ٹیکس میں 2.5 فیصد کمی کا امکان بھی ہے، پراپرٹی اور گاڑیوں کی خرید و فروخت پر 5 فیصد ٹیکس بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے ، ٹول ٹیکس میں فلیٹ 50 روپے اضافہ، کمپیوٹرائزڈ کلیکشن کی بھی تجویز دی گئی ہے ۔عوام کو ٹرین سفر کی طرف راغب کرنے کیلئے ریلوے کرایوں میں کمی پر غور جاری ہے ۔





















