وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ملک میں ساڑھے تین لاکھ نہیں بلکہ ایچ آئی وی ایڈز کے صرف پچاسی ہزارمریض ہیں جن کا علاج جاری ہے۔ کراچی کے نجی اسپتال میں سرنجز سے 70 ہزار بچے ایچ آئی وی کا شکار ہوئے۔ نرسنگ کونسل میں مافیا موجود ہے، مسئلے کے حل سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں ڈاکٹر شازیہ سومرو نے ایچ آئی وی کے نئے سروے پر تحفظات پر اظہار کیا اور کہا کہ سندھ اور پنجاب سمیت ملک میں ایچ آئی وی کے ساڑھے تین لاکھ مریض رپورٹ ہوئے۔ کوٹ مومن کے چھ سو انہتر اور اسلام آباد کے تین سو نئے کیسز کا سروے رپورٹ میں ذکر تک نہیں ۔ شازیہ سومرو نے یہ بھی کہا کہ اسلام آباد میں انہتر فیصد مانع حمل کیسز غیر قانونی ہورہے ہیں ۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اب تک یہ اندازہ ہی لگایا جاتا ہے کہ پاکستان میں ساڑھے تین لاکھ ایچ آئی وی کے مریض ہیں۔حقیقت میں مریضوں کی تعداد چوراسی سے پچاسی ہزار ہے، تمام مریضوں کا علاج جاری ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان نرسنگ کونسل میں بہت مسائل ہیں۔ وزارت نے نرسنگ کونسل میں ایک پوسٹ سے کسی کو ہٹایا توعدالت نے حکم امتناع دے دیا ۔چئیرمین کمیٹی نے نرسنگ کونسل پر رواں ہفتے دو گھنٹے کا ان کیمرا اجلاس بلا لیا۔





















