وزیراعظم کے مشیر اور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہاہے کہ نیپرا ایک آزاد ادارہ ہے، سمجھا جاتا ہے کہ اگر عدلیہ حکومت کو لتاڑے نہ تو وہ آزاد نہیں، نیٹ میٹرنگ والے 7 ہزار میگا واٹ پیدا کرتے ہیں، ایک سسٹم کے تحت یونٹ کی قیمت بنتی ہے، اس فیصلے کو پبلک ڈیبیٹ میں لے کر جاناچاہیے تھا، فیصلہ کیا ہے کہ نیپرا سے نظر ثانی کی درخواست کی جائے۔
تفصیلات کے مطابق رانا ثنا اللہ کا کہناتھا کہ لائن لاسز پوری دنیا میں ہیں، انہیں ختم نہیں کیا جاسکتا، اویس لغاری کو کہا تھا کہ اس معاملے کو عوام کے مفاد میں حل کیا جائے، ایسے راستے موجود ہیں جس سے عوام کا اعتراض ختم ہو، وزیراعظم نے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، نیپرا نے فیصلہ کیا لیکن وزیراعظم نے اس پر عملدرآمد روک دیا ہے، نیٹ میٹرنگ سے متعلق فیصلے میں تبدیلیاں ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی سےملاقات کیلئے سپریم کورٹ نے فرینڈ آف کورٹ مقرر کیا، سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ بانی کی صحت سے متعلق صورتحال کا جائزہ لیا جائے، سلمان صفدر نے جو رپورٹ پیش کی وہ سب کے سامنے ہے۔ پی ٹی آئی سوشل میڈیا بریگیڈ کی جانب سے سلمان صفدر کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
رانا ثنا اللہ کا کہناتھا کہ سلمان صفدر نے پہلے کہا بانی کی صحت ٹھیک ہے، بعد میں کہا میں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا، سلمان صفدر نے تنقید کے باعث اپنا بیان بدلا، اچھا تاثر ہے کہ عدالت نے ان کو ہی فرینڈ آف کورٹ مقرر کیا جن کو تحفظات تھے، پی ٹی آئی کے دور میں جو سلوک ہمارے ساتھ کیا گیا وہ ناقابل بیان ہے، بانی کو جیل سہولیات دی گئی ہیں۔





















