وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس سے متعلق کیس کا محفوظ کیا گیا فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالت نے مختلف شرائط کے ساتھ کیس نمٹا دیا۔
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس پر سماعت کی۔ چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان نے فیصلہ پڑھ کر سنایا۔
وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کو درست قرار دے دیا، فیصلے کے مطابق ہائیکورٹس کا قانون کو امتیازی قرار دینا درست نہیں تھا۔ فیصلے سے وفاقی حکومت کو فیصلے سے 300 ارب سے زائد کا فائدہ ہوگا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کیس کے قابل سماعت ہونے پر اعتراضات مسترد کیے جاتے ہیں، انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 4 بی 2015 سے برقرار رکھی جائے گی۔ ہائیکورٹس کے سیکشن فورسی سے متعلق فیصلے جزوی طور پر کالعدم قرار دیئے جاتے ہیں۔
آئینی عدالت نے انکم ٹیکس کا سیکشن 4 بی بحال کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ قانون سازی کے پارلیمنٹ انکم پر ٹیکس لگانے کا اختیار رکھتی ہے۔
فیصلے کے مطابق مضاربہ، میوچل فنڈز اور بینولیٹ فنڈز پر ٹیکس کا اطلاق نہیں ہو گا، مختلف سیکٹرز سے متعلق الگ قانونی رعایتیں برقرار رہیں گی، آئل اینڈ گیس سیکٹرمیں جس کی جورعایت ہو گی وہ متعلقہ کمشنرزسےحاصل کرسکےگا۔






















