چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمد نے جنیوا میں منعقدہ یو این سی آر سی (اقوام متحدہ کنونشن برائے حقوقِ اطفال) کے 100ویں جائزہ اجلاس میں حکومتِ پاکستان کی نمائندگی کی۔
اجلاس میں وزیراعظم پاکستان کی جانب سے تشکیل دیے گئے اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کی، جبکہ وفد میں سیکرٹری وزارت انسانی حقوق عبد الخالق شیخ، بیرسٹر ظفراللہ، بیرسٹر حیا ایمان زاہد اور دیگر حکام شامل تھے۔
یو این سی آر سی میں پاکستان کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ پر دو روزہ جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس دوران اقوام متحدہ کی ریویو کمیٹی کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے مؤثر اور جامع جوابات دیے گئے۔
اس موقع پر چیئرپرسن سارہ احمد نے کمیٹی کو پاکستان میں بچوں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے کیے گئے نمایاں اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے واضح اور جامع پالیسی موجود ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
وزیرِ مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ پاکستان بچوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کر رہا ہے اور اس ضمن میں مسلسل بہتری لائی جا رہی ہے۔
چیئرپرسن سارہ احمد کا کہنا تھا کہ یو این سی آر سی کے جائزہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرنا ہمارے لیے باعثِ اعزاز ہے، جبکہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے شعبے میں ملک میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سٹریٹ چلڈرن کے تحفظ، بحالی اور فلاح و بہبود کے لیے ملک بھر میں مؤثر اقدامات جاری ہیں، جبکہ ضرورت مند بچوں کے لیے ادارہ جاتی نگہداشت کے ساتھ متبادل نگہداشت کے نظام کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔
سارہ احمد نے مزید بتایا کہ اقلیتی بچوں کے تحفظ کے لیے بین المذاہب چائلڈ پروٹیکشن کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جبکہ پازیٹو پیرنٹنگ اور گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ سے متعلق ملک گیر آگاہی مہمات بھی چلائی گئی ہیں۔ ریسکیو کیے گئے بچوں کو تعلیم، صحت، رہائش، قانونی معاونت اور نفسیاتی کونسلنگ کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
اجلاس کے موقع پر چیئرپرسن سارہ احمد نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے اور سفیر بلال احمد سے بھی ملاقات کی اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے تعاون پر تبادلۂ خیال کیا۔






















