وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے اگلے بجٹ میں تنخواہ دار اور رجسٹرڈ کاروباری طبقے کو ریلیف ملنے کی نوید سنادی۔
سماء سے خصوصی گفتگو میں خرم شہزاد نے کہا کہ اگلے بجٹ میں تنخواہ دار اور رجسٹرڈ کاروباری طبقے کو ریلیف ملے گا، انرجی ٹیرف اور ٹیکسوں کی شرح میں کمی پر بھی کام جاری ہے۔ پاکستانی عوام کے روزگار کمانے کی صلاحیت بڑھانا ہمارا ہدف ہے۔
خرم شہزاد نے کہا کہ آئی ایم ایف سے اگلے اقتصادی جائزہ مذاکرات کیلئے ہوم ورک جاری ہے، سرکاری خزانے پر بوجھ بننے والے 24 اداروں کی نجکاری ہوگی، نجکاری پلان آئی ایم ایف کے اسٹرکچرل بینچ مارک کا حصہ ہے۔ مزید معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی آئی ایم ایف سمیت عالمی مالیاتی اداروں کے تخمینوں سے زیادہ رہے گی، اس سال جی ڈی پی گروتھ 4 فیصد اور اگلے سال 5 فیصد تک جاسکتی ہے، اس سال ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔
مشیر وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ہر دو تین سال کے بعد آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے، اس بار پائیدار ترقی کیلئے محتاط معاشی پالیسی پر عمل ہورہا ہے، رائٹ سائزنگ، توانائی شعبے سمیت سرکاری اداروں میں اصلاحات جاری ہیں، مہنگائی 25، 30 فیصد سے کم ہوکر 5 فیصد کی سطح پر آچکی ہے۔





















