وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے سول سروسز اکیڈمی میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے نئے تربیتی ماڈیول AI CE-101 کا افتتاح کر دیا۔ یہ ماڈیول وزارتِ آئی ٹی، پلاننگ کمیشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے باہمی اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ نے کہا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ گورننس اصلاحات کا جامع فریم ورک ہے، جبکہ نیشنل اے آئی پالیسی میں افرادی قوت کی استعدادِ کار کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کے سول سرونٹس کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذمہ دارانہ اور مؤثر استعمال کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
شزا فاطمہ نے بتایا کہ اے آئی کی تربیت کو اب سول سروسز اکیڈمی کے باقاعدہ نصاب کا حصہ بنا دیا گیا ہے، تاکہ سرکاری افسران جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے 39 میں سے 38 ڈویژنز میں ای آفس کا 100 فیصد نفاذ مکمل ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں فائلوں کی پراسیسنگ کا دورانیہ 30 دن سے کم ہو کر صرف 4 دن رہ گیا ہے۔
وفاقی وزیر آئی ٹی کا مزید کہنا تھا کہ تیز رفتار اور سستا انٹرنیٹ ڈیجیٹل پاکستان کی بنیاد ہے، جبکہ سائبر سیکیورٹی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس ملک کے ڈیجیٹل مستقبل کے کلیدی ستون ہیں۔






















