بلغاریہ یورپی یونین کا اکیسواں رکن بن گیا۔
دارالحکومت صوفیہ میں بھرپور جشن منایا گیا، سینٹرل بینک کی عمارت پرروشنیاں جگمگا اٹھیں۔ یورو کے سکوں اور یورپی یونین کے پرچم کی تصاویر دکھائی گئیں۔ شرکا خوشی سے جھومتے نظر آئے۔
بدھ کی رات 12 بجتے ہی بلغاریہ نے اپنی قومی کرنسی 'لیو‘ کو چھوڑ دیا، جو انیسویں صدی کے اواخر سے اب تک رائج تھی۔ 6.4 ملین کی آبادی والے اس ملک کی حکومتیں مسلسل یورو میں شمولیت کی حامی رہی ہیں، اس امید کے ساتھ کہ اس اقدام سے یورپی یونین کے اس غریب ترین رکن ملک کی معیشت کو تقویت ملے گی اور یہ اقدام مغرب کے ساتھ اس ملک کے تعلقات مضبوط اور روسی اثر و رسوخ کو کم کرے گا۔ تاہم اس فیصلے کی مخالفت بھی کی گئی تھی۔
بلغاریہ میں یورو کے اجرا پر ملا جلا عوامی ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کچھ لوگ خوش ہیں کہ یہ اقدام یورپی یونین کے ساتھ بلغاریہ کے انضمام کو مضبوط کرے گا، جبکہ دیگر کو خدشہ ہے کہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔






















