پاکستان اور بھارت کے درمیان اہم سفارتی پیش رفت ہوئی ہے۔ دونوں ممالک نے جوہری تنصیبات کی تفصیلات اور ایک دوسرے کی جیلوں میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جوہری تنصیبات کی تفصیلات کا تبادلہ بیک وقت اسلام آباد اور دہلی میں کیا گیا۔ یہ تبادلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان طے شدہ معاہدے کے تحت عمل میں آیا۔
جوہری تنصیبات کی فہرستوں کے تبادلے کا معاہدہ ماضی میں پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور بھارت کے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے درمیان طے پایا تھا۔ اس کا مقصد حساس تنصیبات کو کسی بھی ممکنہ حملے سے محفوظ رکھنا اور خطے میں اسٹریٹجک استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی جیلوں میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا بھی تبادلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ عمل دوہزار آٹھ کے قونصلر رسائی معاہدے کے تحت انجام دیا گیا۔۔ پاکستان اور بھارت ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو قیدیوں کی فہرستوں کا باقاعدہ تبادلہ کرتے ہیں۔






















