ایک ہندوانتہا پسند گروپ آر ایس ایس کیسے بھارت کی سیاست پرقابض ہوا؟ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دہشت گرد تنظیم اور سیاسی سرپرست بی جے پی کا پول کھول دیا۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ نے آر ایس ایس کی 100 برس کی خون آلود تاریخ کا کچا چٹھا کھول دیا۔ رپورٹ کے مطابق بی جے پی ہٹلر کے نظریے سے متاثر آر ایس ایس کا سیاسی چہرہ ہے۔ جو بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کی راہ پر گامزن ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہٹلر کے نظریات سے متاثر ہوکرآرایس ایس کی بنیاد ڈالی گئی، تنظیم کے تربیتی کیمپوں میں 1925 سے مذہبی منافرت اور عسکری تربیت کا چرچا ہوتا ہے، 1948 میں مسلمانوں کے حقوق کی بات کرنے پر آر ایس ایس نے گاندھی کو قتل کرادیا۔ ہندو انتہا پسندی کو ووٹ بینک میں تبدیل کیا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق بی جے پی محض سیاسی جماعت نہیں، آر ایس ایس کا سیاسی چہرہ ہے، مسلم دشمنی اور ہندو انتہا پسندی اب ریاستی طاقت میں بدل چکی ہے، 2014 سے باقاعدہ طور پر سیکولر بھارت کو ہندو راشٹر بنانے پرکام جاری ہے۔
امریکی اخبار نے شواہد کے ساتھ ثابت کیا کہ ہندو بالادستی کا منصوبہ آر ایس ایس کی 100 سالہ حکمتِ عملی کا حصہ ہے، اسی پالیسی کی بنیاد پرمقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی۔ بابری مسجد کو شہید کرکے رام مندر بنایا گیا۔ اقلیتوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دہشت گرد تنظیم اب بھارتی ریاستی اداروں میں سرایت کر چکی ہے، تعلیم، میڈیا، عدلیہ اور سیکیورٹی اسٹرکچر شدت پسندوں کے نرغے میں ہیں آور نریندر مودی بھارتی وزیراعظم سے زیادہ آر ایس ایس کا کارکن بن کر کام کررہے ہیں۔






















