اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے ملازمین کی بحالی اور کروڑوں روپے کے واجبات روکنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے حکومتی رویے پر سخت برہمی کا اظہار کردیا ۔
سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ لوگوں کا اپنے واجبات حکومت سے لینا کتنا مشکل ہوگیا ہے۔ لوگ چکر لگاتے رہتے ہیں جبکہ حکومت نے کروڑوں روپے روک رکھے ہوئے ہیں۔
جج نے کہا ایک دن تنخواہ کے بغیر گزارنا مشکل ہوتا ہے، یہ تو ساڑھے چار سال ہوگئے۔ عدالت نے پوچھا اب ادائیگی کب تک کریں گے؟ اس پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈمن نے بتایا آج یا کل تک تنخواہ ادا کر دی جائے گی۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے باقی واجبات سے متعلق بھی سوال کیا۔ حکومتی نمائندے نے جواب دیا ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جا رہی ہے۔اس پر جج نے ہدایت دی ملازم سے حلف نامہ لے لیں کہ اگر اپیل منظور ہو گئی تو تمام رقم واپس کر دیں گے۔ عدالت نے ہدایات کے ساتھ سماعت ملتوی کردی۔






















