`حویلیاں طیارہ حادثے کو نو سال بیت گئے۔ بدقسمت طیارے میں معروف نعت خواں جنید جمشید اور چترال کی رائل فیملی سمیت 47 افراد سوار تھے جو زندگی گنوا بیٹھے۔
7دسمبر 2016 پاکستان کی فضائی تاریخ کا سیاہ ترین دن،پی آئی اے کی پروازPK-661 نے سہ پہر ساڑھےتین بجےچترال سےاسلام آباد کا سفر شروع کیا،مگرفضا میں ایک انجن فیل ہوا،اے ٹی آر طیارہ 42 منٹ تک فضا میں جدوجہد کرتا رہا،اور پھر حویلیاں کی پہاڑیوں میں گر کر تباہ ہوگیا۔
المناک حادثے میں معروف نعت خواں جنید جمشید ان کی اہلیہ،چترال کی رائل فیملی کے افراد،عملہ اور طیارے میں سوار تمام 47 مسافر ہمیشہ کیلئے خاموش ہوگئے۔
ایوی ایشن ایکسپرٹ بتاتے ہیں کہ 1984 سے شروع ہونےوالے اے ٹی آر آپریشن کی تاریخ میں ایسا حادثہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔
فرانس،چین اورکینیڈا کے ماہرین نےطیارہ حادثےکی جانچ پڑتال کی،حتمی رپورٹ میں بتایا گیاکہ ایک انجن فیل ہونےپرپاوردوسرے انجن کومنتقل کی گئی،مگر اسی دوران اووراسپیڈ گورنر ٹوٹ گیا اورطیارہ کنٹرول سے باہر ہوگیا۔
چار سال بعد جاری ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ نے یہ چونکادینے والا انکشاف بھی کیا کہ تکنیکی خرابی کی معلومات موجود ہونے کے باوجود طیارے کو پرواز کی اجازت دی گئی تھی،لیکن اتنے سال بعد بھی اس رپورٹ پر کوئی ایکشن نہ ہوا۔






















