وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ 9 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے ساتھ ملک نہیں چل سکتا۔ ٹیکس نیٹ بڑھانا وقت کی ضرورت ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ مسئلہ ملازمین کا نہیں بلکہ سبسڈی کی رقم میں ہونے والی کرپشن کا ہے۔ ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر عمل پیرا ہیں۔ کوئی ایسی گرانٹ منظور ہو ہی نہیں سکتی جس کی پارلیمنٹ منظوری نہ دے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ ہو چکا۔ یو ایس ایگزم بینک بھی ریکوڈک منصوبے کی فنانسنگ میں واپس آگیا ہے۔ یہ منصوبہ ملک کیلئے گیم چینجر ثابت ہوگا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کہتے ہیں پائیدار ترقی کے لیے ادائیگیوں کا توازن اور کرنٹ اکاؤنٹ انتہائی اہم ہیں۔ نجی شعبے کی حوصلہ افزائی جاری ہے ۔ وزیراعظم نے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج ختم کرنے کی ہدایت دی ، سمری منظوری کیلئے وفاقی کابینہ کو ارسال کر دی ہے۔ آئندہ ہفتے نیشنل فنانس کمیشن کا اجلاس بھی ہوگا۔






















