نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی فوج غزہ بھیجنے کیلئے تیار ہے لیکن حماس کو غیرمسلح کرنا ہمارا کام نہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سے مشورے کے بعد غزہ فوج بھیجنے کا اصولی طور پر اعلان کیا۔ ایک شوشہ چھوڑا گیا کہ غزہ کےلیے بین الاقوامی استحکام فورس کا مینڈیٹ حماس کو غیرمسلح کرنا ہے لیکن ایسا نہیں، مجوزہ فورس کا مینڈیٹ اور قواعد و ضوابط واضح ہونے تک پاکستان فوج بھیجنے کا حتمی فیصلہ نہیں کرسکتا۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ 29 ستمبر کے اعلان سے غزہ میں قتل عام کو روکا جاسکتا تھا، خوراک کی عدم دستیابی سے ہونے والی بچوں کی اموات روکنا بھی مقصد تھا، اعلان کے باجود غزہ میں جنگ بندی کی کافی خلاف ورزیاں ہوئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے ساتھ اس وقت ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں، امریکا سے اچھے تعلقات کا یہ مطلب نہیں کہ غلط چیز کو ہم غلط نہ کہیں، ہم نے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی باقاعدہ اورشدید مذمت کی۔
قبل ازیں وزیردفاع خواجہ آصف نے ایکس پوسٹ میں لکھا کہ اسرائیلی فوج غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہی ہے۔ معاہدے کی حمایت کرنے والے مسلم ممالک اپنے مؤقف پر نظر ثانی کرسکتےہیں۔
وزیردفاع کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک بچوں سمیت 352 فلسطینی شہید ہو چکے ۔ شرم الشیخ معاہدہ خطےمیں استحکام کےلیےکیا گیا تھا لیکن اسرائیلی کارروائیوں نے خدشات پیدا کردیے کہ وہ معاہدے کی پاسداری کرے گا یا نہیں؟ عالمی برادری خصوصا مغربی ممالک اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کی پابندی کےلیےدباؤبڑھائیں۔ ترک صدر رجب طیب اردوان اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔






















