انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) انتظامیہ پر مبینہ منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل نے ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو متعلقہ ریکارڈ کی فراہمی کے لیے مراسلہ ارسال کردیا۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ریکارڈ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت فراہم کیا جائے۔
مراسلے کے مطابق مبینہ کرپشن پبلک انسٹیٹیوشنل فنڈز،صوبائی،وفاقی ایچ ای سی گرانٹس اور ایف آئی بی اے ٹی انڈومنٹ میں کی گئی، فنڈزکی کرپشن کے لئے مخصوص کنٹریکٹرز اور وینڈرز کوآئی ٹی،انفرا اسٹرکچرل پروکیورمنٹ کنٹریکٹ دئیے گئے، ایگزیکٹو بینفشریز کی جانب سے مقامی اور بین الاقوامی سطع پر موو ایبل،ایمووایبل پراپرٹیز کے ذریعے لانڈرنگ کی گئی، ایف آئی اے انکوائری میں 2020 سے 2024 کے آڈٹ شدہ مالی اسٹیٹمنٹس طلب کی گئی ہیں۔
مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ صوبائی اور وفاقی ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے ملنے والی گرانٹس اور انڈومنٹس کا ریکارڈ بھی طلب، ملکی وغیرملکی پرائیوٹ ڈونرز،آرگنا ئزیشنزسے ملنے والی گرانٹس کا ریکارڈ بھی فراہم کیا جائے، گرانٹس کا استعمال،منظوری اور واوچرز سمیت آئی بی اے اورمتعلقہ ٹرسٹ کی بینک اسٹیٹمنٹس ، ٹرسٹ ڈیڈزو متعلقہ دستاویزات ، 2020 سے تمام پروکیورمنٹ،کنٹریکٹرزو وینڈرزکے نام طلب کر لیئے گئے ۔
ترجمان آئی بی اے کے مطابق ایف آئی اے کااینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت معلومات کا مراسلہ موصول ہوگیا ہے، انکوائری حکام کامراسلہ روٹین کے تحت ہے ،غیرمعمولی نہیں ہے، اسی طرح کے نوٹسز دیگر پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو بھی جاری کیے گئے ہیں، آئی بی اے میں کسی ایک فرد کو مالی یا انتظامی معاملات پریکطرفہ اختیارحاصل نہیں ہے، ادارے کے پری آڈٹ سمیت اندرونی آڈٹ کے بیرونی آڈٹس مسند آڈٹ کمپنیزسے کرائے جاتے ہیں۔





















