وزیر اعظم کے مشیر اور مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ جب تک تمام فریق ٹیبل پر نہیں بیٹھیں گے، مسائل حل نہیں ہوں گے۔
ہفتہ کے روز لاہور میں الیکشن کمیشن آفس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ن لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ 14 اگست کو وزیراعظم نے میثاق استحکام پاکستان کی بات کی تھی جس کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں۔
لیگی رہنما نے زور دیا کہ مذاکرات اور عدالتی فیصلوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں اور حکومت کسی کو بائی پاس نہیں کرے گی نہ کرنے دے گی جبکہ جو بھی مذاکرات ہوں گے وہ سب کے سامنے ہوں گے۔
لازمی پڑھیں۔ سینیٹ الیکشن، رانا ثناء اللہ اور سلمیٰ اعجاز کے کاغذات نامزدگی منظور
رانا ثناء اللہ نے عدلیہ کے فیصلوں کے اختیار کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو اپیل کا حق حاصل ہے اور فیصلہ حق میں ہو یا نہ ہو، عدلیہ کا احترام لازم ہے۔
انہوں نے 9 مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج کے لیے ترغیب دینے والوں کو غلطی پر ندامت کا اظہار کرنا چاہیے تھا جس سے معاملات بہتر ہو سکتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے بہترین طریقے سے جیل کاٹی اور حکومت نے انہیں ہر قسم کی سہولت فراہم کی۔
ان کا کہنا تھا کہ جب فیصلہ ان کے حق میں آتا ہے تو وہ عدلیہ کی تعریف کرتے ہیں لیکن جب خلاف ہوتا ہے تو تنقید شروع کر دیتے ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ آج کاغذات نامزدگی کی سکروٹنی مکمل ہوئی ہے اور مسلم لیگ (ن) نے پی ٹی آئی کے امیدوار پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا، 9 ستمبر کو الیکشن ہوگا جس میں دیگر سیاسی جماعتیں بھی حصہ لے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف اور شہباز شریف کی قیادت میں ملک کے استحکام کے لیے کوشاں ہے۔
آرمی چیف کے برسلز دورے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے دوروں سے لوگ قریب آتے ہیں اور بات چیت ہوتی ہے۔






















