بھارت کی جانب سے سفارتی آداب کو نظر انداز کرتے ہوئے نئی دہلی میں تعینات پاکستانی سفارتکاروں اور ان کے اہلخانہ کے خلاف ہراسانی کا سلسلہ جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی سفارتکاروں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے جبکہ ان کے گھروں میں گیس اور انٹرنیٹ کی سہولیات وقتاً فوقتاً معطل کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارتکاروں کو دیے گئے رہائشی مکانات خالی کرنے کے احکامات کنٹریکٹ کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی جاری کر دیے گئے اور اب تک چار سے پانچ سفارتکاروں کو گھر چھوڑنے کا حکم دیا جا چکا ہے۔
لازمی پڑھیں۔ بھارت کا ایک اور پاکستانی سفارتکار کو ملک چھوڑنے کا حکم
گھر خالی کرنے کے حکم کے ساتھ بھارت کے دیگر اوچھے ہتھکنڈے بھی جاری ہیں۔
اپریل سے سفارتکاروں کے پانی، دودھ، گیس اور فوڈ ڈیلیوری پر وقتاً فوقتاً پابندی لگائی جا رہی ہے جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کو اخبارات کی فراہمی بھی روک دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق نئی دہلی میں پاکستانی سفارتکاروں کے بچوں کے اسکول داخلے بھی کینسل کر دیے گئے ہیں، جس سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے ان اقدامات کو ویانا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے معاملہ بھارتی حکومت کے ساتھ اٹھایا ہے۔
لازمی پڑھیں۔ پاکستان نے فیلڈ مارشل سےمنسوب باتوں پر بھارتی وزارت خارجہ کا بیان مسترد کردیا
ذرائع کے مطابق پاکستانی سفارتکاروں اور ان کے اہلخانہ کے 17 ویزوں کی توسیع میں 4 سے 5 ماہ کی غیر معمولی تاخیر کی گئی ہے جس سے سفارتی عمل متاثر ہو رہا ہے۔
پاکستان نے بھارتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سفارتی عملے کی حفاظت، وقار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں۔
پاکستانی ہائی کمیشن نے ان واقعات کی تفصیلات اسلام آباد میں وزارت خارجہ کو رپورٹ کر دی ہیں اور بھارت سے فوری طور پر ان غیر قانونی ہتھکنڈوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔






















