بلوچستان کے ضلع مستونگ میں بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم فتنہ الہندوستان نے سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر آئی ای ڈی حملہ کیا جس کے نتیجے میں میجر رضوان طاہر سمیت 3 جوان شہید ہوگئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق شہداء میں صوابی سے تعلق رکھنے والے 37 سالہ نائیک ابن امین اور کرک کے 33 سالہ لانس نائیک محمد یونس شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ میجر رضوان طاہر نے انسداد دہشت گردی کے متعدد آپریشنز میں بہادری سے حصہ لیا تھا۔
حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے سرچ آپریشن شروع کیا جس کے دوران 4 بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
علاقے میں دہشت گردوں کی ممکنہ موجودگی کے پیش نظر کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز ملک سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بہادر جوانوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مذمت
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مستونگ میں ہونے والی بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کے امن و استحکام پر حملہ قرار دیا۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دشمن کے ناپاک عزائم کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمارے بہادر جوانوں کی شہادتیں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دشمن کو ہر محاذ پر منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے میجر رضوان طاہر اور ان کے ساتھیوں کی مادر وطن کے لیے قربانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم ان کی مقروض ہے۔
سرفراز بگٹی نے زور دیا کہ دہشت گردی کے ہر واقعے کا حساب لیا جائے گا اور قاتلوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ قوم اپنے شہداء کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے خاندانوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔






















