قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں اراکین نے مہنگی بجلی اور بلوں میں غیر معمولی اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور وزیر توانائی اویس لغاری سے سخت سوالات کیے۔
منگل کے روز ہونے والے اجلاس میں اراکین نے 200 اور 201 یونٹ کے بلوں میں بڑے فرق پر خاص طور پر اعتراض اٹھایا جبکہ رکن کمیٹی ملک انور تاج نے کہا کہ ایک یونٹ کے فرق سے بل میں غیر معمولی اضافہ عوام کے لیے ناقابل فہم ہے اور اس معاملے کو ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔
انہوں نے سوال کیا کہ 201 یونٹ پر بل اتنا زیادہ کیوں بڑھ جاتا ہے۔
حکومتی رکن رانا محمد حیات نے کہا کہ لائف لائن صارفین کو 200 یونٹ تک 5 ہزار روپے بل آتا ہے لیکن 201 یونٹ ہونے پر یہ 15 ہزار روپے تک پہنچ جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے صارفین پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے بھی نکل جاتے ہیں اور عوام کو جواب دینا مشکل ہو رہا ہے کہ بجلی کب سستی ہوگی۔
وزیر توانائی اویس لغاری نے جواب دیا کہ 200 یونٹ تک کے صارفین کو 80 فیصد رعایت دی جا رہی ہے اور صارفین کے لیے مزید ریلیف کے اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کا زیادہ استعمال بڑھے گا تو ریٹ کم ہو سکتے ہیں۔
اویس لغاری نے اراکین کے استفسارات پر اعتراف کیا کہ ملک میں سالانہ 250 ارب روپے کی بجلی چوری ہو رہی ہے جبکہ بلز کی عدم وصولی سمیت مجموعی نقصانات 500 ارب روپے سے زائد ہیں۔
کمیٹی نے مہنگی بجلی اور بھاری بلوں کے معاملے پر مزید اقدامات کا مطالبہ کیا۔






















