پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ شملہ معاہدہ ختم یا معطل کرنے کا کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں کیا۔
واضح رہے کہ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک روز قبل سماء کے پروگرام ’’ندیم ملک لائیو ‘‘ میں کہا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ معطل ہو یا نہ ہو ، مودی سرکار کے اقدامات کے بعد شملہ معاہدہ اب فارغ ہوچکا ہے اور ایک مردہ دستاویز کے سوا کچھ بھی نہیں۔
لازمی پڑھیں۔ ’شملہ معاہدہ فارغ، پاک، بھارت تعلقات 1948 کی پوزیشن پر واپس آ گئے‘، وزیر دفاع
وزیر دفاع کا یہ بھی کہنا تھا کہ جنگ بندی عالمی دباؤ کا نتیجہ ہے لیکن بھارت نے اگر اب کوئی جارحیت کی تو جواب بہت شدید ملے گا ۔
تاہم، پاکستان کیجانب سے شملہ معاہدہ معطل یا ختم کرنے کی زیرگردش خبروں کی تردید سامنے آگئی ہے اور ترجمان دفتر خارجہ نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان شملہ معاہدے کی مکمل پاسداری پر قائم ہے۔
دفتر خارجہ کے سینئر حکام کے مطابق بھارت کے ساتھ شملہ معاہدے سمیت کوئی بھی دوطرفہ معاہدہ منسوخ کرنے کا ابھی باضابطہ فیصلہ نہیں ہوا۔
شملہ معاہدہ 2 جولائی 1972 کو ہماچل پردیش کے دارالحکومت شملہ میں طے پایا تھا اور اگر یہ معاہدہ ختم یا معطل ہوتا ہے تو کیا اثرات ہوں گے؟ خواجہ آصف نے’’ندیم ملک لائیو ‘‘ میں یہ بھی بتا دیا تھا۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ’ آپ کی جو سیزفائرلائن کی حیثیت اور ایل او سی کیفیت وہ اپ کو دوبارہ بیٹھ کے ڈسکس کرنی ہے، ہم واپس 48 والی سچویشن کے اوپر اگئے ہیں جس کے اوپر پنڈت جواہر نہرو کے بیانات ہیں اور انہوں نے ایکسیپٹ کی ہوئی ہے، ایون سکیورٹی کونسل میں جہاں معاملہ گیا تھا ۔‘






















