خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے مختلف کارروائیوں میں 12 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ شدید فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے لیفٹیننٹ سمیت 4 فوجی جوان شہید ہوگئے۔
خیبرپختونخوا
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں خوارج نے چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش کی جسے سیکیورٹی فورسز نے مؤثر جوابی کارروائی سے ناکام بنا دیا۔
اس آپریشن میں 6 بھارتی حمایت یافتہ خوارج ہلاک ہوئے جبکہ چترال میں ایک اور جھڑپ کے دوران ایک اور بھارتی اسپانسرڈ خارجی دہشت گرد کو ہلاک کیا گیا۔
شوال کے آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے لیفٹیننٹ دانیال سمیت 4 فوجی شہید ہوئے۔
دیگر شہدا میں نائب صوبیدار کاشف رضا، لانس نائیک فیاقت علی اور سپاہی محمد حمید شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں مزید خوارج کی موجودگی کے پیش نظر کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز بھارت کی سرپرستی میں جاری دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور شہدا کی قربانیاں ان کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
بلوچستان
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ مطابق لورالائی میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کی جس کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں فتنہ الہندوستان کے 4 دہشتگرد مارے گئے۔
فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں سے اسلحہ ، گولہ بارود اور دھماکا خیزمواد بھی برآمد ہوا جبکہ ہلاک دہشتگرد گزشتہ سال 26 اگست اور 18 فروری 2025ء کی تخریبی کارروائیوں میں ملوث تھے۔
این 70 پر دہشتگردوں کی کارروائیوں میں 30 شہری شہید ہو گئے تھے اور یہ دہشتگرد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انتہائی مطلوب تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع کیچ میں دوسری کارروائی میں سیکیورٹی فورسز نے ایک اور دہشتگرد کو ہلاک کیا۔
آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز ملک سے فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں اور دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کی مذمت
وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کی جانب سے دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کی گئی ہے۔
اپنے خصوصی بیان میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ میدان میں شکست کھانے کے بعد بھی دشمن کی گھٹیا حرکتیں جاری ہیں،۔
عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ لیفٹینینٹ دانیال اور پاک فوج کےجوانوں نے مردانہ وار مقابلہ کیا اور بہادر سپوتوں نے جام شہادت نوش کر کے اپنے حلف کی لاج رکھی۔
ان کا کہنا تھا کہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور قوم بہادر افواج کے ساتھ ہے۔
انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالٰی شہداء کے درجات بلند فرمائے اور غمزدہ خاندانوں کو صبر دے۔



















