وزیراعظم شہبازشریف ایران کا دورہ مکمل کرکے آذربائیجان کے شہر لاچین پہنچ گئے۔ آذربائیجان کے وزیرخارجہ جیہون بیراموف نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔
وزیراعظم شہبازشریف پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان سہ فریقی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ صدر الہام علیوف سے اہم ملاقات بھی ہوگی۔ بھارتی جارحیت کے دوران حمایت پر آذربائیجان کا شکریہ ادا کریں گے۔
اس سے قبل وزیراعظم پاکستان نے تہران میں ایرانی سپریم لیڈر اور صدر سے ملاقاتیں کیں ۔ پاک بھارت کشیدگی کے دوران مکمل حمایت اور ثالثی کی پیشکش پرشکریہ ادا کیا ۔ وزیراعظم شہبازشریف نے ازلی دشمن کو خبردار بھی کردیا ۔ تہران میں ایرانی صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا خطے میں امن کی خاطر بھارت کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہیں لیکن اگر بھارت نے دوبارہ جارجیت دکھائی تو منہ توڑ جواب دیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے عالمی برادری غزہ کیلئے آواز اٹھائے ۔ ہم سویلین استعمال کیلئے ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے حق کی حمایت کرتے ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا پاک بھارت جنگ بندی کا خیرمقدم کیا۔ کہا خطے میں استحکام کیلئے مل کرکوششیں کرنا ہوں گی ۔ ایران اور پاکستان او آئی سی کے رکن ممالک ہیں جو ملکر غزہ مظالم کی مذمت کرتے ہیں۔ ایرانی صدر نے دورہ کرنے پر وزیراعظم اور پاکستانی وفد کا شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات میں بھارت کی جارحیت سے متعلق آگاہ کیا۔ شہبازشریف نےایرانی سپریم لیڈر کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔ آیت اللہ خامنہ ای نے ایکس پرلکھا پاکستان کواسلامی دنیامیں اہم مقام حاصل ہے۔ غزہ پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے کیلئے مل کرکام کرنا ہوگا ۔
اعلامیے کے مطابق شہبازشریف نے امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات آگے بڑھانے میں ایرانی قیادت کی دوراندیشی کو سراہا۔ جلد تعمیری معاہدہ ہونے کی امید ظاہرکرتے ہوئے کہا اس معاہدے سے خطے میں امن واستحکام کو فروغ ملےگا ۔
وزیراعظم اورایرانی صدر میں ون آن ون ملاقات پھر وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ اعلامیے کے مطابق فریقین نے پاک ایران گیس پائپ لائن کا معاملہ باہمی مشاورت سے جلد حل کرنے کا عزم دہرایا ۔علاقائی ترقی و استحکام کیلئے افغانستان میں امن ضروری قرار دیا۔






















