گزشتہ روز دارالحکومت میں ہونے والی شدید ژالہ باری نے جہاں شہریوں کو بھاری مالی نقصان سے دوچار کیا وہیں ورکشاپس اور ونڈ سکرین تبدیل کرنے والوں کے لیے یہ قدرتی آفت کمائی کا سنہری موقع ثابت ہوئی۔
انڈے کے سائز کے برف کے گولوں کی بارش نے سینکڑوں گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے، درخت گرائے اور سولر پینلز سمیت عمارتوں کو نقصان پہنچایا لیکن ورکشاپس پر منہ مانگے دام وصول کرنے والوں کی چاندی ہو گئی۔
محتاط اندازوں کے مطابق سیکٹر ای-11، ایف-7 اور میلوڈی کے قریب کم از کم 300 گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
تاہم، ضلعی انتظامیہ اب تک مجموعی نقصانات کا تخمینہ لگانے میں ناکام رہی ہے اور شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے نہ تو نقصانات کا سروے کیا اور نہ ہی متاثرین کے لیے کوئی امدادی اقدامات کیے۔
ورکشاپس پر ونڈ سکرین کی تبدیلی کے ریٹس آسمان کو چھونے لگے جبکہ مکینکس نے مجبور شہریوں سے منہ مانگے دام وصول کرنا شروع کر دیے۔
شہریوں نے شکایت کی کہ ورکشاپس پر قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے جس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔
شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نقصانات کا فوری تخمینہ لگائے، متاثرین کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کر، اور ورکشاپس پر قیمتوں کو ریگولیٹ کرے تاکہ شہریوں سے زیادتی نہ ہو۔
انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جس سے شہریوں میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔






















