ملک میں جاری معاشی بحران اور 470 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کے باوجود وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیموں کا بجٹ دوگنا کر دیا۔ ارکان پارلیمنٹ کو براہ راست فنڈز دینے کے بجائے متعلقہ وزارتوں۔ ڈویژنز اور صوبائی حکومتوں کے ذریعے ترقیاتی اسکیموں پر عمل درآمد کروایا جائے گا۔
پائیدار ترقی اہداف کے نام سے قائم اسکیموں کے لیے مختص بجٹ 25 ارب سے بڑھا کر 48 ارب 37 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق اس اضافے سے سب سے زیادہ فائدہ پنجاب کے ارکانِ پارلیمنٹ کو پہنچے گا جنہیں 28 ارب ستاسی کروڑ روپے دیئے جائیں گے۔
سندھ کے ارکان کو 15 ارب 25 کروڑ، بلوچستان کو دو ارب 25 کروڑ، خیبرپختونخوا کو ایک ارب 25 کروڑ روپے اور اسلام آباد کے ارکان کے لیے 75 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں ترقیاتی اسکیمیں شروع نہ ہو سکیں جس کی وجہ سے مجموعی ترقیاتی بجٹ کا صرف ساڑھے 10 فیصد ہی خرچ کیا جا سکا۔ 1100 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں سے صرف 148 ارب روپے خرچ کیے گئے۔
طے شدہ حکمت عملی کے مطابق پہلی سہ ماہی میں 15 فیصد، دوسری میں 20 فیصد، تیسری میں 25 فیصد اور آخری سہ ماہی میں 40 فیصد فنڈز جاری کیے جانے تھے مگر دسمبر کے آخر تک متوقع 385 ارب کے مقابلے میں اخراجات تین گنا کم رہے۔
دستاویزات کے مطابق پیپلز پارٹی نے گزشتہ مالی سال کے 30 ارب روپے کے غیر استعمال شدہ ترقیاتی فنڈز بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا جسے حکومت نے مسترد کر دیا۔






















