پاک فوج کی ملک کے لئے قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ فوجی جوان ہر دم ملک کی حفاظت اور بقاء کےلئے اپنی جان قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ وطن کیلئے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو پوری قوم خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔
دفاع وطن کے لئے دی جانے والی لازوال قُربانیاں افواجِ پاکستان کی میراث ہیں۔ وطن سے محبت میں جان نچھاور کرنا پاک فوج کے سپاہیوں کی پہچان ہے۔ جان قربان کرنے والے عظیم سپوتوں کی قربانیوں نے پاکستان کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ وطن سے محبت پاک فوج کے جوانوں کی میراث ہے۔
دفاع وطن میں جان قربان کرنے والی داستانوں میں حوالدار زاہد خان بھی شامل ہیں۔ حوالدار زاہد خان شہید 15 اکتوبر 2024 کو ضلع شمالی وزیرستان کے گڑیوم سیکٹر میں دفاع وطن میں شہادت کےعظیم رتبے پر فائز ہوئے۔ حوالدار زاہد خان شہید کا تعلق ضلع جہلم سے ہے۔ حوالدار زاہد خان شہید نے سوگواران میں بیوہ، تین بیٹیاں اور دو بیٹے چھوڑے۔
حوالدار زاہد خان شہید کے بھائی نے اپنے احساسات و جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھائی کے ساتھ بہت اچھا اور خوشگوار بچپن گزرا، اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اللہ نے بھائی کو شہادت کا مرتبہ عطا کیا۔ نصیب والوں کو ہی شہادت کا رتبہ ملتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچپن سے ہی اسکو فوج میں جانے کا بہت شوق تھا، ان کے بچوں کو ہر چیز مل جائے گی مگر باپ کا پیار کبھی نہیں ملے گا، بھائی بہت ملنسار تھا اور ہر کسی سے بہت ادب اور اخلاق سے ملتا تھا، بھائی کی بہت کمی محسوس ہوتی ہے اور ان کی بہت یاد آتی ہے۔ شہادت سے آدھا گھنٹہ پہلے بھائی سے بات ہوئی اور شہادت کی خبر سنی تو مجھے یقین نہیں آیا۔
حوالدار زاہد خان شہید کے بھائی نے کہا کہ الحمداللہ بھائی نے ملک کے لیے دشمن کو نیست و نابود کرتے ہوئے شہادت کا رتبہ پایا، سلام ہے ان والدین کو جنہوں نے اپنے بچوں کی ایسی تربیت کی کہ وہ اپنے ملک کو سب سے پہلے ترجیح دیں، ہمارا ملک، پاک فوج کے جوانوں کی وجہ سے ہی قائم و دائم ہے، وہ سرحدوں پر ہماری حفاظت کر رہے ہیں۔
بیوہ حوالدار زاہد خان شہید نے کہا کہ شوہر بہت اچھے اخلاق کے مالک تھے، بچوں اور میرا بہت خیال رکھتے تھے، میرے شوہر نے شہادت کا رتبہ حاصل کیا جو ہمارے لیے باعث فخر ہے، شہادت کے تین دن بعد خواب میں آئے تھے؛ بولا کہ اپنا اور بچوں کا خیال رکھنا۔ ان کے خواب میں آنے کے بعد سے بہت حوصلہ اور ہمت ملی ، اللہ نے بہت صبر عطا کیا۔
بیوہ حوالدار زاہد خان شہید کا کہنا ہے کہ وہ اکثر کہا کرتے تھے میرے بچے افسر بنیں گے، میں اپنے شوہر کے خواب پورے کروں گی، اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دوں گی۔
شہید کے بیٹے کا کہنا ہے کہ بابا جب چھٹی پر آتے تھے تو ہمارے لیے بہت سارے کھلونے لے کر آتے تھے، ہمیں اپنے بابا کی بہت یاد آتی ہے۔ میں بڑا ہو کر پاک فوج جوائن کروں گا اور اپنے بابا کے نقش قدم پر چلوں گا۔ حوالدار زاہد خان شہید کی شجاعت اور بہادری تاریخ کا ایک روشن باب ہے، قربانی ہمارا سرمایہ ہے۔






















