چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مہنگائی کے حساب سے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کردیا۔
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ 10 برس کے دوران جس حساب سے مہنگائی ہوئی، اسی تناسب سے ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ مزدوروں کو اپنی محنت کا صلہ ملے گا تو معیشت مستحکم ہوگی، 10 سال کے دوران مہنگائی میں جتنا اضافہ ہوا اسی حساب سے تنخواہوں اور پینشن میں بھی اضافہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی مزدوروں کے لیے تین نسلوں سے جدوجہد کررہی ہے، ہم نے مزدورں اور محنت کشوں کے ساتھ مل کر پاکستان کو آئین دلوایا۔
چیئرمین پی پی پی نے کہاکہ آمر ضیاالحق اور پرویز مشرف کے دور میں مزدوروں کے خلاف سازشوں کو پیپلزپارٹی نے ناکام بنایا۔ اس ملک کو لیبر پالیسی دینے والے پیپلزپارٹی کے قائد شہید ذوالفقار علی بھٹو تھے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی نے ارکان پارلیمان کی تنخواہ و مراعات بڑھانے کی منظوری دے دی۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں فنانس کمیٹی نے ارکان پارلیمان کی تنخواہ اور مراعات وفاقی سیکرٹری کے برابر کرنے کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد فنانس کمیٹی کی سفارشات وزیراعظم شہبازشریف کو بھجوا دی گئی ہیں۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق ممبر قومی اسمبلی ( ایم این اے ) اور سینیٹر کی ماہانہ تنخواہ و مراعات 5 لاکھ 19 ہزار مقرر کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے67 اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے بھی تنخواہوں میں اضافے کا تحریری مطالبہ کیا گیا ہے۔
پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی ، ن لیگ اور دیگر جماعتیں بھی تنخواہ و مراعات بڑھانے کیلئے ہم آواز ہیں۔ تمام کٹوتیوں کے بعد وفاقی سیکرٹری کی تںخواہ اور الاؤنسز 5 لاکھ 19 ہزار ماہانہ ہیں اور سفارشات میں کہا گیا کہ اراکین پارلیمنٹ کو سہولیات بھی وفاقی سیکرٹری کے مساوی دی جائیں۔






















