گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کا کہنا ہے کہ موجودہ طریقہ کار کے تحت الیکشن کا کوئی فائدہ نہیں، اسطرح الیکشن کرانے نہیں چاہئے۔ جب کسی کو پتہ ہی نہ ہو میرے ووٹ کتنے ہیں۔
سماء کے معروف پروگرم ’’ڈیبیٹ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے گورنر پنجاب نے کہا کہ پاکستان بننے سے ابتک کوئی الیکشن ایسا نہیں ہے جو سب نے مانا ہوں، اسمبلی میں بیٹھے تمام پارٹیاں بیٹھ کر الیکشن کا ایسا طریقہ کار طے کریں جو سب کےلیے قابل قبول ہوں۔
سردار سلیم حیدر نے کہا کہ سیاستدان اگر ماضی سے سبق نہیں سکیھتے تو پھر ان کا خشر یہی ہوگا، جب پاور میں آتے ہیں سب سارے چیزیں بول جاتے ہیں، جب حکومت میں ہوتے ہیں تو کہتے ہیں سب ٹھیک ہے، 2018 میں عمران خان نے اقتدار میں آکر خرابیاں ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کی۔
گورنر پنجاب نے تجویز دی کہ الیکشن کمیشن کو بلکل آزاد کرنا چاہئے، الیکشن کمیشن کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے، اس وقت الیکشن کمیشن کو فنڈ حکومت سے لینے ہوتے ہیں، حکومت کو الیکشن کمیشن کی فنڈ جاری کرنے کا پابند ہونا چاہئے۔ الیکشن کمیشن کا عملہ الیکشن کرائے، اسکےلیے کوئی راستہ نکالاہ جائے۔
فیک نیوز کے روکھتام سے متعلق بل کے بارے میں سوال پر گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ فیک نیوز پر سزا کی بات ٹھیک ہے مگر صرف الزام پر 30 لاکھ روپے جمع کرنے والی بات پر اعتراض تھا، فیک نیوز نے سوسائٹی کو تباہ کردیا اتفاق کرتا ہوں، مگر یہ نہیں کی پھندا جہاں فٹ آتا ہوں وہاں کس لو، جس نے جرم کی ہے سزا بھی اسی کو ملنی چاہئے، جرم ثابت ہونے کے بعد 30 لاکھ روپے جرمانے پر اعتراض نہیں مگر صرف الزام پر 30 روپے جرمانے جمع کرنے پر اعتراض تھا۔ اسطرح تو پھر صحافیوں کو خبر دینے سے پہلے 30 لاکھ کا بندوبست کرنا چاہئے۔
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے مزید کہا کہ مریم نواز کو کہا جس کو میں چانسلر لگوانا چاہتا تھا اس کا نام بتائیں، میری کوئی خواہش نہیں کہ فلاں وائس چانسلر لگے مگر جو طریقہ کار میں خرابیاں ہوئیں اس پر مجھے اعتراض ہے۔
سردار سلیم حیدر کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق صوبائی اسمبلی کے پاس گورنر کے اختیارات کم کرنے کا اختیار ہے ، خیبرپختونخوا حکومت نے گورنر سے ااختیارات لیے پنجاب حکومت اگر لینا چاہتا ہے تو میں روک نہیں سکتا۔ اگر اسمبلی میں قانون سازی ہوگئی تو اس میں گلہ نہیں ہوسکتا۔ اسے پر برداشت کرنا پڑے گا۔






















