امریکی فوجی جہاز غزہ کے ساحل پر ایک عارضی بندرگاہ بنانے کے لیے سامان لے کر مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ ہوگیا۔
یاد رہے کہ امریکی صدرجو بائیڈن کی جانب سے بیان سامنے آیا تھا کہ امریکا سمندری راستے سے غزہ تک امداد پہنچانے میں مدد کے لیے ایک عارضی بندرگاہ بنائے گا۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی امدادی فوجی جہاز ہفتے کے روز ریاست ورجینیا کے ایک فوجی اڈے سے روانہ کیا گیا جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ بائیڈن کے اعلان کے بعد امریکی جہاز 36 گھنٹے سے بھی کم وقت میں روانہ ہوا، جو غزہ کو اہم انسانی امداد کی فراہمی کے لیے ایک عارضی بندرگاہ قائم کرنے کے لیے پہلا سامان لے کر جا رہا ہے۔
پینٹاگون کے مطابق ایک ہزار فوجیوں کی مدد سے بندرگاہ کی تعمیر میں 60 دن لگ سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں قحط شدید ہے اور بچے بھوک سے مر رہے ہیں جبکہ خیراتی اداروں نے کہا ہے کہ غزہ کے متاثرین اتنا زیادہ انتظار نہیں کر سکتے۔
علاوہ ازیں تقریباً 200 ٹن خوراک سے لدا ایک امدادی جہاز اتوار کی صبح قبرص کی ایک بندرگاہ سے روانہ ہونے کے لیے کلیئرنس کا انتظار کر رہا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اوپن آرمز نامی بحری جہاز پیر سے پہلے روانہ ہو سکے گا۔
اسرائیل نے سمندری اقدام کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ قبرص میں اسرائیلی معیارات کے مطابق سیکیورٹی چیک کیے جانے کے بعد امداد فراہم کی جائے گی۔
دوسری جانب وزارت صحت غزہ کا کہنا ہے کہ 7 اکتویر سے شروع ہونے والی جنگ کے نتیجے میں اب تک غزہ میں تقریباً 40 ہزار سے زیادہ فلسیطینی شہید ہو چکے ہیں۔





















