ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاہے کہ 9مئی کے تمام لوگوں کے ملٹری ٹرائلز ہو چکے ہیں، اب تمام مقدمات سول کورٹ میں ہے، ہم 9مئی کےتمام مقدمات مکمل کر کے بند کر چکےہیں، کوئی ملک فوجی تنصیبات پر حملے کی اجازت نہیں دیتا ،فیض حمید سمیت ایک دو مقدمات کے علاوہ ملٹری کورٹ میں کوئی کیس نہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہناتھا کہ جو کہتے ہیں کہ ہم فوج کے خلاف نہیں بلکہ فرد واحد کے خلاف ہیں، فوج کیاہے ؟ یہ وراثت نہیں ہے کہ باپ کے بعد بیٹا، یہ میرٹ پر چلتی ہے ، اس میرٹ بیس سسٹم میں ہمارا ڈسپلن، ہماری خود احتسابی اور کلچر میں اس کی مضبوطی ہے ، ہمارے چیف آف آرمی سٹاف اور کمانڈرز کے حکم پر آپ کا بچہ سولجر اپنی جان دیتاہے ، معرکہ حق کی پوری جنگ ہے ، اس کا آرکیٹیکٹ کون تھا؟ اس کو کس نے لڑوایا، فیلڈ مارشل نے لڑوایا ، جو ہندوستان کے آگے آنکھیں ڈال کر کھڑاہے ، جو آج کے فیلڈ مارشل نے خوارجیوں کے خلاف نظریہ دیاہے وہ پہلے کبھی نہیں دیا گیا ، خوارجیوں کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے ، آپ اس شخص پر حملہ کرتے ہیں، آپ ان کی تضحیک کرتے ہیں،ہم ایک ادارہ ہیں،یہ پاکستان کی فوج اور عوام کے درمیان دراڑ نہیں ڈال سکتی، پونے 6 لاکھ فوج کی تعداد ہے ، فوج کے افسر مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس سے آتے ہیں، فیلڈ مارشل ایک سکول ٹیچر کے بچے ہیں، کوئی کسی شہید ، کوئی کسی فوجی افسر ، کوئی کسی دکاندار کا بچہ ہے ، ہم اس عوام سے آتے ہیں، یہ ہمارے اور عوام کے درمیان اپنی سیاست سے کبھی فرق نہیں ڈال سکتا ، اس کا باپ بھی نہیں ڈال سکتا ، فوج کا کام جان دینا اور جان لینا ہے ، یہی ہمارا کام ہے ،تم ہوتے کون ہو بات کرنے والے ، بھیجو اپنی اولاد کو فوج میں، ان کو تم نے بیرون ملک رکھاہے ، خوارج اور ہندوستا ن کے آگے کھڑا کرو جس کی تم سہولت کاری کر رہے ہو،






















