گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں شاہراہ تھک بابوسر پر شدید سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی ہے جس کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق اور 15 کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔
ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق کے مطابق تمام زخمیوں کو ریجنل اسپتال چلاس منتقل کیا گیا ہے جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور ان کی طبی امداد جاری ہے، تاحال 30 سے زائد افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
ترجمان کے مطابق سیلابی ریلوں کے باعث 15 سے زائد گاڑیاں بہہ گئیں یا دب گئیں جبکہ ساہیوال سے تعلق رکھنے والی ایک گاڑی میں سوار سیاحوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
جاں بحق ہونے والوں میں سے دو کی شناخت مشعل فاطمہ اور فہد اسلام، ساکنان لودھراں کے طور پر ہوئی ہے۔
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے سیاحوں کے ریسکیو آپریشن کو مزید موثر بنانے کی ہدایت کی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ ضلع غذر، بلتستان اور دیگر متاثرہ علاقوں میں سیلاب سے متاثرین کی بحالی کے لیے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔
حکومت نے متاثرہ علاقوں میں راشن پیکٹ اور خیموں کی فراہمی کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔
شاہراہ بابوسر اور شاہراہ ریشم دیامر کی حدود میں 20 مقامات پر بند ہیں جبکہ سیلابی ریلوں سے شاہراہ بابوسر کا 8 کلومیٹر سے زائد حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔
حکام نے سیاحوں اور مقامی افراد کو خراب موسم کے پیش نظر سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
جی بی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور مقامی انتظامیہ متاثرین کی امداد اور شاہراہوں کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہے جبکہ موسمی حالات کے باعث مزید نقصان کا خدشہ برقرار ہے۔






















