زرعی ترقیاتی بینک میں ساڑھے 11 ارب روپے قرض کی لگ بھگ ساڑھے 11 ہزار فائلیں گم ہونے کا انکشاف ہو گیا۔
منگل کے روز چیئرمین جنید اکبر کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں آڈٹ اعتراضات کے جائزے کے دوران کرپشن کی حیران کن کہانیاں سامنے آئیں اور زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ (زیڈ ٹی بی ایل) میں 11 ارب 48 کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کی 11,400 قرض فائلیں غائب ہونے کا انکشاف ہوا۔
بینک کے صدر نے بتایا کہ اصل میں 22 ہزار فائلیں غائب تھیں جن میں سے کچھ کا سراغ لگایا جا چکا ہے جبکہ 5 ہزار فائلیں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے موقع پر جل گئی تھیں۔
کمیٹی نے اس معاملے کو دوبارہ محکمانہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔
آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ بینک کے عملے نے خود کو کسان ظاہر کر کے 1 ارب 25 کروڑ روپے کا قرض حاصل کیا۔
صدر زیڈ ٹی بی ایل نے بتایا کہ معاملہ ایف آئی اے اور نیب کے حوالے کیا گیا،جس کے نتیجے میں 27 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی اور 400 ملازمین کو برطرف کر دیا گیا۔
اجلاس میں پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے کوٹ ادو پارکو ڈپو سے 18 کروڑ روپے مالیت کا تیل ضائع ہونے کے آڈٹ اعتراض پر بھی بحث ہوئی۔
حکام نے بتایا کہ متعلقہ عملہ والو بند کیے بغیر وضو کرنے چلا گیا تھا، جس سے لاکھوں لیٹر تیل بہہ گیا تاہم 5 ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی گئی اور 4.2 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی۔
کمیٹی نے پوچھا کہ تیل بہاؤ کے ماحولیاتی اثرات پر ادارہ تحفظ ماحولیات سے رائے کیوں نہیں لی گئی؟ جس پر سیکرٹری پیٹرولیم نے تسلیم کیا کہ یہ بڑی کوتاہی ہے۔
کمیٹی نے پی ایس او اور وزارت پیٹرولیم کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے معاملہ ذیلی کمیٹی کو تحقیقات کے لیے سونپ دیا۔
اجلاس میں اسٹیٹ بینک کی عمارت پر 25 سال سے نادرا کے قبضے کا بھی انکشاف ہوا۔
ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ 2000 میں اس وقت کے چیف ایگزیکٹو کے حکم پر عمارت نادرا کو دی گئی تھی۔
کمیٹی نے چیئرمین نادرا کو اگلے اجلاس میں طلب کر لیا۔






















