بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) کے وزیر وجے شاہ کو بھارتی فوج کی مسلم خاتون افسر کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف توہین آمیز بیان دینا مہنگا پڑ گیا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیر وجے شاہ نے گزشتہ روز بھارتی فوج کی ترجمان خاتون افسر کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف متنازع بیان دیا تھا اور کہا تھا کہ جن لوگوں نے ہماری بیٹیوں کا سندور اجاڑا تھا ہم نے اُن کی بہن کو ہی اُن کے پاس بھیج کر اُن کی پٹائی کی۔
بدھ کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے وجے شاہ کے خلاف چار گھنٹوں کے اندر ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ ریمارکس نہ صرف کرنل قریشی بلکہ پوری بھارتی فوج کی توہین ہیں اور یہ بیانات مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
کانگریس کا شدید احتجاج
وجے شاہ کے بیان نے بھارت کی اندرونی سیاست میں بھی ہلچل مچائی اور اپوزیشن جماعت کانگریس نے اسے فرقہ وارانہ، غیر مہذب اور قومی سلامتی کے خلاف قرار دیتے ہوئے وجے شاہ کی فوری برطرفی کا مطالبہ کیا۔
مدھیہ پردیش کے مختلف شہروں بشمول اندور، بھوپال، بدناور اور کھنڈوا میں کانگریس کارکنوں نے احتجاج کیا، وجے شاہ کی تختیوں پر سیاہی پھینکی اور ان کے پتلے جلائے۔
مظاہرین نے مودی سرکار مردہ باد اور وجے شاہ مردہ باد کے نعرے لگائے۔
کانگریس صدر ملیکارجن کھرگے نے کہا کہ یہ بیان بی جے پی اور آر ایس ایس کی خواتین مخالف ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔
وجے شاہ کا معافی نامہ
شدید تنقید اور بی جے پی کی جانب سے طلب کیے جانے کے بعد وجے شاہ نے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور وہ کرنل قریشی کی عزت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان کے بیان سے کسی کو ٹھیس پہنچی تو وہ دس بار معافی مانگنے کو تیار ہیں تاہم، اس معافی سے عوامی غم و غصہ کم نہیں ہوا۔
کرنل صوفیہ قریشی کون ہیں ؟
کرنل صوفیہ قریشی 1999 سے بھارتی فوج کے سگنلز کور میں خدمات انجام دے رہی ہیں اور آپریشن سندور کے دوران میڈیا بریفنگز کی وجہ سے قومی سطح پر مشہور ہوئیں۔
وہ 2016 میں ملٹی نیشنل ملٹری ایکسرسائز کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون افسر بھی تھیں۔





















